حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 61 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 61

مصباح دیوہ 61 مبر ١٩٩٣ء جس کام کا تہیہ کر لیتی وہ رات رات بھر جاگ کی مکمل کہتی کے ملے جلے جذبات سے جیسے لوز سی اٹھتی" خدا با نظر وہ زندگی سے بھر پور تھی۔اور پھر بعد انداز سے نہ لگے ہمارے پیار کو میرے ساتھ یا اپنے چچا کے ساتھ زندگی گزاری۔جس کا ہر پہلو مثبت تھا۔یہی وجہ تھی کیونکہ چھپا کی ہی وساطت سے مجھ سے تعلق قائم ہوا کہ اس کی ہر بات پر یقین آجاتا تھا۔تھا ایک انوکھا پیار کا اندازہ تھا جس میں ایک فدائیت دوسروں کی خاطر ہر وقت قربانی کے لئے تیار یقی ایک والہانہ پن تھا جس کا اظہار اس کی ایک تنظیم دلجوئی کے لئے پر کھلوص جذبات اور محبت بھرے الفاظ۔قربانی سے ہوتا ہے۔کم از کم میرے لئے اس قسم کی اور اس نے کٹھن حالات میں بھی حوصلہ نہ ہارنے دربار کس کس مثال پیش کرنی ممکن نہیں۔کے لئے اس نے کیا کیا۔اس کے لئے ایک دفتر چا ہیئے۔شادی کے بعد جب اس کے ہاں ناصر کی پیدائش کی میاں بیوی کے جھگڑے اس نے نبٹائے۔بگڑتے گھر اس امیدواری ہوئی تو اس نے اپنی اتھی اور اپنی ساس کو لکھا کہ یکن نے شادی سے قبل اپنے اللہ سے عہد کیا تھا کہ جب نے بتائے۔نہ ڈالتی۔صائب الرائے اس قدر کہ سسرال میں ، میکے میں تو مجھ کو اس قابل کرے گا تو نہیں اپنی پہلی چیز اپنے چچا لجنہ کے دفتر میں، اپنے حلقوں میں جہاں جہاں بھی وہ رہی چچی کو دے دوں گی۔اور مجھے کو کوئی اس پیش کش سے اس سے مشورہ کیا جاتا اور اکثر اس کے مشورہ پر عمل کیا جانا۔نہ روکے۔کیونکہ یہ اس یہ عہد کے نتیجے میں ہے اور یہ تحریر و تقریر پر تبصرہ کرنا یہاں پر مقصور نہیں میرے پاس ان کی امانت ہے۔۔۔۔اور قائل کرنے کی خاطر لیکن اس کے قلم میں ایک روانی ربط اور منطقی بہاؤ پایا اس نے خوب لمبا چوڑا خط لکھا۔اماں جی اور میری خوشی جاتا۔اور یہی خوبی اس کی تقریر میں تھی۔بھری محفل میں وہ کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا مگر اس کے چچانے کہا کہ تم بھی بیٹھی تقریر تیار کر رہی ہوتی جو اس نے جلسہ کے اختتام ہماری بیٹی ہو۔تمہارے بچے ہمارے بچے ہیں۔تم نے پھر کسانی ہوتی۔اس کے خیالات کے بہاؤ کہیں کوئی چیز خلل سنت ابراہیمی کی یاد کو تا نہ ہ کیا۔اللہ تعالیٰ تمہاری اس قربانی کا اجر عظیم عطا فرمائے۔ہمیں اللہ تعالی نے جس عاجزی اور انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی امتیازی حال میں رکھا ہم اس میں بھی مطمئن ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ جگہ پر بیٹھنا اس کو بالکل پسند نہ تھا۔لاکھ کوشش کرو کہ ہمیں اولاد کے قابل نہیں سمجھتا تو ہم اس کے ارادوں بشری اٹھو کہ کسی پر بیٹھو مگر اس کا کہنا ہی تھا کہ نہیں میں حالی نہیں ہونا چاہتے۔اس کی رضا پر راضی ہیں۔یہیں ٹھیک ہوں " ملتی تو بازو پھیلا کر میری جان کیسی اس کے جواب میں اس نے جو خط لکھا وہ آج بھی میرے ہو۔میری چاند کہاں ہو۔اس کا انداز پذیرائی کہاں سے لاؤں۔پاس ہے۔دل چاہتا ہے کہ سارا یہاں نقل کر دوں۔وہ ہر پیر کہ احمدیہ ہال میں ملاقات پر وہ بازو پھیلا کر خوشی اب بھی " آپ کا ناصر" کہتی تھی۔اور ناصر کو بھی خوب سے جیسے چیخ پڑتی اچھی جان عطر چا کیسے ہیں۔باور کروا دیا ہوا ہے کہ وہ ہمارا بیٹا ہے۔حالانکہ اور ذیلی دفتر میں اس کے اس انداز سے خوشی فخر اور جینی مجھے ناصر، طاہر دونوں یکساں طور پر عزیز ہیں کہ وہ