حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 19 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 19

مصبات ربود 19 سمبر ۱۹۹۳ طرح ہمارا موضوع سيرة طبیہ ہی رہتا۔ہم نے مکہ مدینہ درس پھر مغرب کی نمانہ ، پھر کھانا اور ذرا سا آرام اور کی مقدس ہستیوں کا خاکہ سا بنا رکھا تھا۔مطالعہ سے جو عشاء اور تراویح پڑھے کہ گھر جاتی۔گھر پانچویں منزل نٹے رنگ ملتے ہم اُس میں بھر تے چلے جانے حتی کہ پر تھا اور لفٹ نہیں تھی۔آخری مہینوں میں ڈاکٹر نے ہمیں ایک جیتی جاگتی دنیا محسوس ہونے لگی تھی۔سیڑھیاں اتر نے پڑھنے سے منع کیا تھا۔ہمت بھی نہ یشتری کو ڈاکٹر صاحبہ نے دیکھ کر آپریشن کا تھی اس لئے پیر کے پیر ملاقات میں کمی آگئی۔ڈاکٹر صاحبہ فیصلہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ وہ کچھ عرصے چھٹیاں کہ آئیں تو آٹھ جولائی ہسپتال میں داخل ہونے کے لئے چھٹی پر جارہی ہیں۔بشری کے پاس اب معقول کی تاریخ دی۔انہیں دنوں دعوت الی اللہ کا نیا ٹارگٹ بہانہ تھا کہ ڈاکٹر صاحبہ کی واپسی تک وہ دوا کھا کھا آگیا۔پر ولولہ دیوانی اس ٹارگٹ کے لئے بے تاب ہو کر کے وقت گزار لے گی۔بیشتری اپنی قوت ارادی اور کام کرنے لگی۔محترمہ مبارکہ ملک سامنہ کی وفات حیرت جذبہ خدمت دین سے چل رہی تھی ورنہ اکثرا سے کوئی آیات پر ہم دونوں اکٹھے گئے تھے بھی خوشی بمیار پرسی نہ کوئی تکلیف رہتی۔ایک دفعہ بہت عرصہ ہلکا ہلکا تعزیت وغیرہ میں عموما ساتھ رہتا مگر یہ ساتھ آخری بخار رہا۔کبھی کبھی کھانسی بھی اٹھتی تھی۔درد شقیقہ تھا۔سارا رستہ باتیں پھر وہاں بھی ساتھ بیٹھے۔واپسی سے بے حال ہو جاتی۔گردے میں بھی درد محسوس کرتی پر بھی ساتھ تھے اور یہ میری پیاری بشری سے طویل اس کے علاوہ بھی اسے تکلیف تھی مگر وہ ہم سب سے ملاقات تھی جس میں تم کے آنسو بھی تھے۔نئے احمدی زیادہ لینہ کا کام کرتی سب سے زیادہ گھر پر محنت بنانے کے عزائم بھی تھے اور۔۔اور۔۔اور بہت کچھ کرتی۔جلسے تقاریر دورے بیٹا وقت لیتے۔اس کے تھا۔جولائی کے شروع میں فون پر باتوں کا رنگ کچھواں علاوہ فون شستنا اور فون کر تا بہت وقت طلب کام طرح تھا۔میں نے سارے بستروں پر صاف چادریں بچھا دیں تھے۔اُسے ملال رہتا کہ وہ بچوں کو اتنی توجہ نہیں ہیں تاکہ بچوں کو تکلیف نہ ہو۔میں نے بہت سے کھانے دے سکتی جتنی دینی چاہئیے۔داؤد بھائی کو قرار واقعی پیکا کو فریز کر دیئے ہیں۔میرے بعد کام آئیں گے۔آج وقت نہیں دے سکتی۔امی آبا کو ملنے نہیں جاسکتی ڈھیر سارے کپڑے دھوئے ہیں تا کہ میرے بعد کچھ عرصہ باتی رشتے داروں سے ملنا، تقریبات پر جانا۔سب کچھ تو نکل جائے۔طولی کے کپڑے استری کمرہ کے لٹکا دیے لازمی تھا۔گھر وقت اور ہمت میں کہاں سے گنجائش لاتی۔ہیں۔اب بالوں میں کنگھی کر رہی تھی ایک دن کہنے لگی دل گھبرا رہا ہے کبھی ایسے بھی وہ کبھی کبھی رات رات بھر بیٹھے کہ لکھنے کا کام کرتی وہ رات سارے کپڑے خود سیتی تھی۔جمعہ، اجلاس، جلسہ کو " ہوتا ہے کہ آپریشن کے بعد کوئی واپس آ ہی نہ سکے ہیں کام پر ترجیح دیتی۔رمضان المبارک میں دوپہر تک کھانا داؤد کو کہوں گی کہ اگر ایسا ہوا تو سارے کاغذ باندھ پکانے اور دیگر گھر کے کام کر کے کھانا ساتھ لیتی اور کہ تمہارے گھر دے آئیں۔باقی کام تم کر لینا۔ایک بچوں کے ساتھ احمدیہ بال آجاتی۔عصر کی نمازہ ، پھر دن اللہ پاک کے غفور الرحیم ہونے پر بات ہوئی۔