حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 18
مصباح دیوه 阅 د ممبر ١٩٩٣ ء امی پر ٹوٹ کے پیار آیا تھا وہ اپنے ماضی میں چلی گئی ہماری نظریں تو ڈاکٹر کے کمرے کے دروازے تھی۔وہیں پر اس نے بتایا تھا۔ایک دفعہ وہ کچھ کھیلنے پر تھیں کہ کب بلاوا آتا ہے مگر ماضی کو کھنگالنے میں میں مصروف تھی۔گھی کھڑی کہ فراک بکری نے کھا لیا کیسے مصروف تھے۔ایک نازک سی کم عمر بٹھاتی لڑکی جب بغیر وہ پیڑوں پر چڑھے کہ دھما چوکڑی مچا کہ کپڑے میلے کر کے باری کے ڈاکٹر کے کمرے میں گھسنے کی ناکام کوشش پھاڑ کر گھر آیا کرتی تھی۔کیسے بہتہوں سے مل کر کھیلتے پر پسپا ہو کہ پیچھے ہٹتی تو اس کا ادھیڑ عمر موٹا تازہ اور جھگڑا کرتے تھے۔گھر میں دادی اماں کی لاڈلی تھی وہ پٹھان شوہر اسے سرمہ لوکی آنکھوں سے اس طرح گھورتا کسی کو کچھ کہنے نہیں دیتی تھیں۔امی جب کبھی ملول ہوئیں جیسے ہی چلے تو یہیں ذبح کر دے تیز قدموں سے آگہ تو بڑی خاموشی سے اُن کی آنکھوں سے آنسو بہتے اور اسے ڈانٹتا اور اندر گھسنے کی کوشش جاری رکھنے کی وہ یہ شعر پڑھا کرتیں۔پشتو میں تلقین کر کے مونچھوں پر تاؤ دینے لگتا۔بہت ہی حاجتیں پوری کریں گے کیا نمری عاجہ بشر مکرانی ، سندھی، پنجابی، بلوچی ، پٹھانی ، ان پڑھ یا کہ بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے کم تعلیم یافتہ عورتوں کو دیکھ کہ ہمارے دل درد مند ہو کبھی بیگ صاحب کا مزاج ٹھکانے نہ ہو تو بڑی رہے تھے۔دنیا میں کتنے لوگ بیمار ہیں۔انہیں غور سے ما چیزی سے کہتیں آپ خفا ہیں تو مجھے سے کھانے سے کیا دیکھتے ہوئے بشری نے کہا دیکھو ہمیں کتنا کام کہنا جھگڑا ہے۔کھانا تو کھا لیجیے۔بشری نے بتایا کہ کس طرح ہے۔ان سب کو احمدیت کی تعلیم دیتی ہے۔عورتیں اتنے سال کے بعد کالج سے کاش منی واپس ملنے پر خوشی سے دُکھ اس لئے اٹھاتی ہیں کہ نہ اُن کو علم ہے کہ ان کے پاؤں زمین پہ نہ ٹکتے اور یکمشت دس روپے خرچ کرتے حقوق کیا ہیں۔فرائض کیا ہیں نہ مردوں کو پتہ ہے انسانیت کے لئے سب سے بہتر ترکیب امی کے لئے چیل خریدتا ہوتی اُن سے کیا تقاضا کہتی ہے۔ہمیں اُس پیمانے پر امی بیگ صاحب کے پرانے کرتے رنگ کر کے انقلاب لانا ہے جیسے دور اول میں لایا گیا تھا۔بشری کی آوازہ دھیمی تھی مگرہ تقریر کا سماں بندھ نہیں لیتیں۔پھٹے ہوئے دوپٹے مچھی کہ اوڑھ لیتیں پھر جیوٹ کی یوریوں کو کسی کہ اُس پر اون سے کڑھائی چکا تھا۔میرے پرس میں حضور پر نور کا تازہ مکتوب کر کے قالین بنانے کا قصہ بھی سُنایا۔تھا جو ہم نے ابھی مل کہ نہیں پڑھا تھا۔حضور کی یادوں سے ہم غیر محسوس طور پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر تک پہنچے۔ہم دونوں عجیب جذباتی ہو رہی تھیں میرے بچپن کی یادوں میں بھی کچھ ہی کچھ تھا۔میں نے بھی اسے بتایا کہ دوران تعلیم کتابوں کا پیوں کا مکمل ہوتا کبھی یکیں یہ بتاتی چلوں کہ بشریٰ کی سیرہ پر کتابیں ممکن نہ ہوا تھا۔اس پر اسے اپنی اتنی کی کتابوں کی تھال لکھنے اور تقاریر کی تیاری میں ظاہر ہے۔لان کا دل سے جلد بندی اور پرانی کاپیوں سے کاغذ نکال نکال کر محبت بھی شامل تھی۔کثرت سے سیرت کی کتب کا مطالعہ کرتی اور مجھے عمومی طور پر مطالعہ کی عادت ہے۔اس سینا یاد آیا۔