حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 20
مصباح ریوه 20 ومبر ۱۹۹۳ فر ہر دفعہ بات میں ٹارگٹ کے لئے دعا کرو۔اس ہو کہ حال پوچھتے ہو اور چلے جاتے ہو۔ادھر میرے کی دعائیں بھی عجیب ہوتیں۔کہتی دُعا کرو۔اللہ تعالیٰ قریب آؤ پھر اُس کا سر پکڑ کر اپنے سینے سے لگا کر مجھے اُس وقت اٹھا لے جب اس کی رضا کی نظریں مجھے پر بھینچ لیا اور بہت پیار کیا، بہت دُعائیں دیں۔مہر پڑ رہی ہوں۔پھر کہتی دُعا کرو۔نسلوں تک نسلوں تک " وہاب صاحبہ اور میں اُس سے ملتے گئے۔ہسپتال میں بستر مسز نسلاً بعد نسل ایمان کی دولت نصیب ہو۔کبھی کہتی دُعا کرو پر میری بشری ہشاش بشاش لیٹی تھی زیادہ تر خدا تعالیٰ مجھے اس جماعت میں شامل کر لے جسے رسول کریم ٹارگٹ کی باتیں ہوئیں، واہمہ بھی نہ تھا کہ یہ آخری طاقات صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرایا جائے گا۔کبھی کہتی وہ ہے۔یہی نے کہا بیٹری پانچے سیڑھیاں پڑھ کر جاؤ گی۔نظر نہیں آنا ملتا نہیں ہے ورنہ ہمیں اسے ایسا چیٹوں انہیں سیڑھیوں نے تمہیں بیمار کیا ہے۔یہ گھر نیچے دو کہ کبھی نہ چھوڑوں۔بس ایک دفعہ مل جائے تم دنا کرد کہیں نیچے لے لو۔یہی کی طرف دیکھا اور بڑے سکون نہیں اسے پالوں میرے نفس میں اور مجھے میں اتنا بعد ہو جائے سے بولی۔کہ اللہ تعالٰی کو میرا دل پسند آجائے۔" میرا اللہ بھی تو جانتا ہے وہ جب چاہے گا محب اللہ تعالیٰ اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے انتظام کر دے گا۔جہاں چاہے گا وہیں رہ اس کی مانے کا محور تھا۔اسی کی طاقت سے وہ چل رہی لوں گی وہ بڑا پیارا ہے۔تھی۔وہ اللہ والوں سے پیار کرتی تھی۔وہ یا عمل عالم تھی۔بچوں کو بہت یاد کیا۔طاہر زیادہ لیے چین ہو وہ کبھی کسی کا دل نہ دکھاتی تھی۔عجیب پیار بھرے انداز جاتا ہے۔طوبی معصوم انتظار کر رہی ہوگی۔ناصر خود میں تسلیاں دیتی۔یہ جیسے طے شدہ بات تھی کہ مشورہ کرنا کو سنبھال لیتا ہے۔مگر ظاہر۔۔۔میں سلام کر کے ہو اُس سے کر لو۔بہترین مشورہ طے گا۔کوئی گھیرا جٹ ہاتھا چوم کے دُعا دے کے واپس آنے لگی تو آواز دے ہوا سے فون کر لو پیار سے کوئی حل بتائے گی اور اشتعال کر کہا۔۔۔۔صاحب سے پوچھنا نہیں نے آخرہ کی دن ان کو کے شکر کی طرف رخ موڑ دے گی۔کسی امر میں فیصلہ کرنا ہو دعوت حتی دی تھی۔کیا سوچا ہے۔میری خاطر پوچھ لینا تو وہ میری جلدی نتیجے پر پہنچ جاتی۔اُس کی رائے موقر میرا نام لے کر پوچھ لینا۔۔۔پھر میں نے بہتری کی اور فیصلہ وقیع ہوتا۔آواز نہیں سنی - دس جولائی کو ہسپتال داخل ہوئی۔تیرہ کو کامیاب ۲۰ جولائی سہ پہر ہسپتال سے ڈاکٹر صاحب آپریشن ہوا۔وہاں مریضوں سے ہمدردی کر کے دل موہ کا فون آیا۔آوانہ میں درد تھا۔لیا پھر اپنا پیغام دیا۔بہت جلد ہر دلعزیز ہو گئی۔بہت آپ کی بیشتری ٹھیک ہو گئی تھی۔آج اُسے چھٹی لوگ اُسے ملنے گئے۔ہر ایک خوش باش آیا۔نہیں وہ انتجا) ہو گئی تھی وہ سب سے ملیں مجھے بھی منہ چوم کے پیارے کرتی دکا کمر و ٹارگٹ پورا ہو جائے۔ایک دن اپنے کیا۔سب انہیں بہت پسند کرنے لگے تھے۔مگر اچھی بھائی باسط کو کہا تم آتے ہو کھانا دیتے ہو۔وہاں کھڑے شیر نہیں ہے۔