حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 54 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 54

مصباح زیده ۵۴ 54 دیکمبر ۱۹۹۳ء تھے ساری ساری رات باتوں میں گنے جاتی تھی جس ہیں مگر مورود صاحب نے مجھے یہ بات نہ بتائی۔جتنے دن ہم وہ خاص طور سے اس کی محبت و شفقت کا ذکر ضرور کرتی فرانس میں رہے وہ اکیلے ہی اس حادثہ کو برداشتت کرتے رہے۔نہیں۔کھینچتا چلا جائے۔نے خطبہ جمعہ ہماری طلاقا نہیں کہ ہوتی تھیں مگر جب بھی ہوتیں ، ۲۷ جولائی ۱۹۹۳ء کو ہم جلسہ سالانہ لنڈن کے بھر پور انداز میں ہوتی تھیں۔وہ ہم سب کی خیر خواہ لئے فرانس سے روانہ ہوئے HEATH ROW AIRPORT تھیں۔بزرگوں کا نہایت احترام کرتی تھیں۔بچوں سے پر جماعت کی دین ہمیں لینے آئی۔دین میں میرے ساتھ ایک بہت پیار تھا۔پھرے پر ہر وقت ایک دل آویز تقسیم جرمن اور ایک SPANISH نو عمر احمدی خواتین بیٹھی اپنی بہار دکھانا تھا کہ انسان خود بخود ان کی طرف تھیں۔ان سے جماعت کے متعلق باتیں شہرونا ہو گئیں۔یکی SPANISH خاتون کے خیالات، لگن اور جماعت بیمار تو وہ کافی عرصہ سے تھیں اور کافی سیریس کے ساتھ اُن کے اخلاص سے بہت متاثر ہوئی اور انہیں بیمار تھیں جس کا علاج ڈاکٹرز نے CPERATION تجویز بتا یا کہ میری ایک چھٹانی ہیں بشری وہ بھی ایک طویل کیا تھا مگر جماعت کے کاموں کی خاطر ہمیشہ اسے ٹالتی عرصے سے نہایت جانفشانی اور ذمہ داری کے ساتھ رہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت دن بدن گرتی جا رہی جماعت کے امور سمیتھالے ہوئے ہیں۔وہ کہنے لگیں وہ معنی اور وہ بہت کمزور ہو گئی تھیں۔مگر مجال ہے جو ان بشری جن کی وفات پر حضور ہو کی کا ر کر دگی میں کوئی فرق پڑا اردو جماعت کے کام تندہی اور میں تعزیت کی ہے اور ان کا ذکر خیر کیا ہے " میں لگن سے جاری تھے۔بے اختیار کہ اکٹھی نہیں نہیں وہ کوئی اور ہوں گی۔ان ار جولائی ۱۹۹۳ء کو ئیں اور بچے مردو ر صاحب کا OPERATION ضرور ہوا ہے لیکن اب وہ خدا کے کے ساتھ FRANCE روانہ ہوئے جہاں مودود صاحب کی فضل سے خیریت ہیں۔ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ OFFICIAL TRAINING تھی۔اس دوران بیشتر کی میرے شوہر نے ان خواتین کو اس موضوع پر بات کرنے یا جی کے OPERATION کی تاریخ مقرر ہوئی۔سے اشارہ منع کیا جس پر دہ SPANISH خاتون کہنے تشویش تو بہر حال تھی مگر یہ امید بھی تھی کہ ہم تھرا لگیں کہ وہ کوئی اور مشترکی ہوں گی۔بعد میں میری غیر موجودگی کے فضل سے دوبارہ ایک صحت مند بشری باجی سے ملیں گے۔میں جبکہ یہی بچوں کے ساتھ جس گھر میں ہمارا قیام تھا ہم فون کر کے ان کی OPERATION سے پہلے اور بعد میں داخل ہو چکی تھی اور مودود صاحب سامان اتار رہے تھے خیریت معلوم کرتے رہے۔ایک دن اتفاق سے مور در صاحب ان خواتین نے باجی بشری کی تعزیت کی اور افسوس کا اکیلے ہی فون کرنے چلے گئے اور اس دن تن تنہا انہوں نے اظہار کیا کہ ہم ان کی 2005 کے حوالے سے انہیں جانتے K5 یہ روح فرسا خبرشتی کہ ہماری پیاری بیشتری با جی کو ہم سے تھے۔بہت اچھی مصنفہ تھیں جس گھر میں ہمارا لندن میں ہمیشہ کے لئے بچھڑے ہوئے چار پانچ روز ہو چکے ہیں۔قیام تھا اس کے اہل خانہ کو بھی منع کر دیا گیا کہ مجھ سے