حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 53
مصباح ریون ۵۳ 5۔3 د نمبر ۱۹۹۳ء روه مورود آه ! ہماری بشری داور ده سے شادی ہوئی تو وہ میری سب سے بڑی چھٹانی بنیں۔ان کے ساتھ میری جو یادیں وابستہ ہیں بچپن کے دور سے شروع ہوتی ہیں۔میری پھوپھی محترمہ شادی کے بعد شروع کے دنوں میں جب میرے میاں سب خورشید عطا صاحبه بشری باجی کی چھپی نہیں اور میری پھر بھی رشتہ داروں کے متعلق مجھے بتا رہے تھے تو بشری با جی کا گھر ہمارے گھر کے قریب ہے۔اسی باعث بشرلی با حجا کا کا ذکر انہوں نے نہایت عقیدت اور احترام سے کیا۔پھوپھی کے ہاں اور میرا بھی وہاں آنا جانا تھا۔ان دنوں اس کی وجہ یہی تھی کہ باجی کی شادی کے وقت وہ چھوٹے بشری باجی یونیورسٹی کی طالبہ اور 5۔6۔M کی سٹوڈنٹ تھے اور باجی کی شفقت اور ان کا محبت بھرا سلوک ہی تھا تھیں۔غالباً میری عمر ابھی اسکول جانے کی نہ میں تھی وہ کہ جس کی وجہ سے مودود صاحب کے دل میں ان کے مجھے اس وقت سے ہی بہت پیاری اور اچھی لگتی تھیں۔لئے اتنا احترام اور پیار تھا۔اور وہ بھی مجھے بہت پیار کرتی تھیں۔مجھے یاد ہے وہ شادی کے بعد میری اور باجی کی رفاقت اور چاہتے مجھے معصوم کیوتر" کہا کرتی تھیں۔انہیں بچوں کی میں مزید اضافہ ہوا۔انہوں نے سسرال میں سب کے معصومانہ باتوں سے شروع سے ہی پیار تھا۔ساتھ انتہائی شفقت اور خلوص کا رویہ رکھا ہم بالکل ایران سے واپس آکر وہ جس دلجمعی اور لگن کے دوستوں کی طرح بہنوں کی طرح ایک دوسرے سے اپنے ساتھ جماعت کے کاموں میں شامل ہو گئیں وہ سب پریٹیاں دکھ سکھ اور دیگر مسئلے مسائل بیان کرتے۔میری انہوں ہے۔ان کے انتہائی احساس ذمہ داری اور خوش اسلوبی نے شادی کے بعد بہت رہنمائی کی بعجیب ان کے ساتھ ہم سے ہر کام کو انجام دینے کی وجہ سے جب انہیں جماعت مل بیٹھنے تو دل چاہتا دیر تک ہم یونہی باتیں کرتے کی اہم ذمہ داری سونپی گئی یعنی انہیں اصلاح وارشاد کی ر ہیں۔ان کا مخاطب کرنے کا انداز بھی بہت دلنیش سیکرٹری بنا دیا گیا تو انہوں نے تادم آخر اس طریق سے تھا۔میری چاند، میری جان، بات کرنے سے پہلے وہ اس اپنی جملہ ذمہ داریوں کو نہایا۔ان کا اپنے مولا سے ، طرح سے ہم سے بات کرتیں۔جب بھی ملنا تو ضرور گلے امام وقت اور اپنی جماعت سے جنون کی حد تک عشق لگانا اور پیار کرنا، اپنے پاس بٹھانا۔ہماری اس محبت اور خلوص تھا۔انہوں نے اپنے آپ کو بے انتہا مصروف میں کبھی کوئی غلط فہمی نہ آئی۔جب میرے محترم شهر مسعود احمد قریشی صاحب کی پچھلے سال وفات ہوئی تو جب میری ۱۹؍ دسمبر ۱۹۸۷ء کو مردود احمد قریشی دہ تین راتیں میرے کمرے میں ہی سوئیتیں بلکہ ہم سوتے کہاں رکھا۔