حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 37 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 37

مصباح دیوه ۳۷ 37 دسمبر ۱۹۹۳ء جیب بھی ان سے ملو بانہیں پھیلا کر اپنے وجود میں سما کے لئے کیسے کیسے انمول انعامات کے ختنہائی اپنے لئے لینا اور پھر کہنا۔۔۔ارے میری جان میری چندا کہ کہ سمیٹ لئے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کا رخسار سے رخسار ملا دینا اور دیر تک اپنے وجود سے سایہ ہمیشہ ہی ان کے مہروں پہرے ہو۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ ان لگائے رکھنا۔جیسے اپنے اندر کی نیکیاں اور پیار کا حامی و ناصر ہو نگہبان ہو۔دوسرے کے وجود میں منتقل کر رہی ہوں۔بچے ماں کا کپر تو نہیں۔عشق حقیقی اور یمی بیان نہیں کر سکتی کہ اس وقت مجھے کیسا سکون عاشق رسول میں اپنی ماں کی شدت اور تڑپ سے بھی لتا اور میرا دل یہی چاہتا کہ کاش کوئی ایسی برتی ہو آگے نکل بھائیں۔وہ ماں جو اپنے حبیب کا نام نامی ضرور ہوتی جو ان کے وجود کی نیکیاں ، سچائیاں ان زبان پر آتے ہی عجیب کیف و سرور کے عالم میں چلی جاتی۔کے کردار کا تمام شمع ، تمام رعنائیاں میرے اندر منتقل اور حبیب کبریا کے لئے انتہائے محبت میں ڈوبا ہوا کر سکتا۔کاش ہم بھی ان جیسے بن سکتے۔اور جب میں ان ہر کلمہ دوسروں کو رہا جاتا۔مُردہ ضمیروں کو جھنجھوڑ کر سے کہتی بشری باجی دعا کہ ہیں کہ ہم بھی آپ جیسے بن جائیں رکھ دیتا کہ ہم دعویدار تو اس محسن انسانیت کے ہیں اور تو سنس کو کہتیں۔تہیں میری جان ہیں تو کچھ بھی نہیں ہمارے اعمال کیا نمونہ پیش کر رہے ہیں۔جبکہ بہتر کی باجی یکیں تو بہت گنہگار ہوں۔اور میرا دل پہلے سے بڑھ کر کی آواز کا سحر اور بھادو اس حقیقت کا غماز تھا کہ ان کا معتقد ہو جاتا۔قول و فعل میں پوری ہم آہنگی ہے کہ اس کے بغیر شخصیت خدا تعالی پیر کامل تو کل اور بھروسے کا عجب حال کا سحر اور جادو ممکن ہی نہ تھا۔تھا۔بڑی سے بڑی آزمائش اور شدید غم کے موقع پر بھی آخرمیں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا ہے کہ میر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتیں اور یہی کہتیں۔وہ اس مجسم پیار ومحبت کے پیکر پر ہمیشہ پیار کی ہیں نہیں تو یہ میرا خدا ظالم ہر گتہ نہیں۔اس نے یقینا نظر رکھے۔اس کو اپنے قرب خاص میں جگہ دے کہ اسے کسی اور بڑے طوفان سے ہمیں بچا لیا ہے۔اس کے تو بڑے اللہ وہ تیری شیدائی تھی۔اپنی چادر رحمت میں اس کو کریم۔بڑی عنایات ہیں ہم پر۔" میرا خدا ظالم نہیں۔سمیٹ لینا اور اعلیٰ مدارج کی جنتوں کا حادث ٹھہرانا۔اور آج ان کے مجازی خدا محترم داؤ د بھائی جان اور تین پیارے پیارے پھول۔اپنی بیوی اور ماں کے اسی فلسفے کو سینے سے لگائے صبر و رضا کی انوکھی اور عظیم درخواست دعا داستان پیش کر رہے ہیں۔اور ان کے لبوں پر بھی ہیں کلمہ ہے کہ "اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔مکرم سید سجا واحمد مصابا بیمار ہیں۔بعض پریشانیاں بھی تمہارا خدا ظالم نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنا فضل وکرم فرمائے اور شفائے کاملہ و اور میں سوچ رہی ہوں ان سب نے دنیا اور آخرت عاجلہ عطا فرمائے۔