حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 36
مصباح ریوه فوزیہ بستہ 36 ۳۶ میری حوری باجی دیکھ لوصیل و محبت میں عجب تاثیر ہے ومبر ۱۹۹۳ء ہیں۔ہم تو کلمہ توحید کے شیدائی ہیں۔کلمہ رسالت کے لئے ایک دل کرتا ہے جھک کرد دسہر دل کو شکار ہم اپنی گردنیں کٹا دیتے ہیں۔اگر چہ ہم دونوں میں کوئی خونی رشتہ نہیں تھا، لیکن نہ جانے کب اور کس طرح بڑی آہستگی کے ساتھ انہوں نے میری اس خالی جگہ کو یہ کیا جس کو صرف ایک یہ یا نہیں کرتے ہوئے ان کے چہرے پر ایک ایس نور ہوتا اور یہ ایک ایسا اعتماد ہوتا کہ اگلا پچھل کر پانی پانی ہو جاتا۔خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ ان کے ساتھ۔بہن ہی کچھ کر سکتی تھی۔اس نئے کہ میری کوئی سگی بہن ان حالات کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی نہیں تھی۔اور یوں چپکے چپکے ملتے جلتے پتہ ہی نہیں چلا کہ کس وقت انہوں نے میرے دل کو شکار کر لیا۔اور میری محرومی کو یکسر ختم کر دیا۔مجھے یاد ہے شروع شروع میں جب میں نے کہ کائش میں ان کے قریب تر ہوتی۔لیکن مجھ میں ہمت نہیں تھی پر محبت کی اس دیوی نے مجھے اپنے سے اتنا قریب کر لیا کہ نہیں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔وہ میری معمولی کاوشوں کو اس درجہ سرا نہیں کہ مسکراہٹوں میں ڈھکے چھپے اس شعلہ بیان مقررہ کو دیکھا میں شہرت ہو ہو جاتی اور پھر کوشش میری یہ ہوتی کہ میں کسی جس کی تقریر و تحریر نے اپنے پیرایوں میں ایک تہلکہ مچایا طرح ان کے معیار پر پوری اتروں گویا انسان کو آگے بڑھانے کا ایک بہت ہی فطری طریقہ کار انہوں نے ہوا تھا تو میں ان سے بے حد متاثر ہوئی۔جہاں بھی غیر از جماعت خواتیں مدعو ہو نہیں۔بشری اختیار کر نہ کھا تھا۔باجی بطور خاص وہاں ضرور تقریر کے لئے موجود ہوتیں۔اس پیارا اور محبت کے سرچشمہ نے نہ جانے کتنے اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب ملکہ تھا۔انہیں جلسے کے بعد ہی بے آب و گیاہ صحراؤں کو اپنی محبت سے سیراب کر کے غیر از جماعت خواتین ان سے ملنے کو بے قرار ہوتیں۔اور ہرا بھرا بنا دیا۔اس کا اندازہ پیاری بہن کی وفات کے بعد بار بار یہی کہتیں کہ ہمیں تو یہ باتیں اس سے پہلے کسی ہوا۔جب بلجنہ کی خواتین کا ایک نہ تھمنے والا سیلاب اشکبار نے نہیں بنائیں۔ہمیں تو آپ لوگوں کے بارے میں بہت غلط باتیں بتائی گئیں تھیں۔اور بشر کی باجی مسکرا آنکھوں اور ہچکیوں کے ساتھ ان کی دائمی بھلائی سے نڈھال مسکرا کر سب کو یہی جواب دیتی ہیں کہ آپ سوچیں ، آپ اکیلی جان کے پاس پیالہ کا ایک بیکراں سمندر تھا۔جس غور کریں۔ہمارا تو خدا ہمارا رسول اور ہمارا قرآن سے سب سیراب ہوتے تھے۔ہر کوئی اپنی جگہ یہی سمجھے بیٹھا تھا کہ بس بشرط حوری صرف اور صرف میری ہیں۔سب رہی ہے جو آپ کا ہے۔ہم کیسے کا فر ہو سکتے تھا اور اس وقت مجھ سمیت ہر کوئی یہی سوچ رہا تھا کہ اس