حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 23
مصباح دیوہ ۲۳ 23 جرات سے ، استقلال سے ، وہ ہادی خیر الانبياء ، یسین ، مدثر ، طل شاہ جہان انبیاء، روحانیت کی انتہا ، جود و سخا کا منتہی صل علی صل علی تھا خلق جس کا بے بہا ، وہ ذات پاک و مه لقا ، کردار میں صدق و صفا وہ پہلے امام الانبیاء ، ہر بات اس کی دلربا، انسانیت کا منتہیٰ صل علی صل علی اس کی عنا جو دو سنجا ، ہے لطف جس کا بے بہا ، رحمت ہے اس کی ہر جگہ آئینها رب الورکی ، نشست گاہ تخت تعدا ، اعزاز اس کو ہی ملاصیل علی صل علی دنیا کو اک کلمہ ملا صورت حسین و دلربا، سیرت میں ثانی نہ ملا، قاب قوسین او ادنی صل علی صل علی وہ عکس شان کبریا ، اوصاف میں وہ حق تما، حکم و عدل کا بادشاہ وہ عظمتوں کا دیوتا ، رفعت ہے تاحد نگاہ ہے سب میں شامل پر جدا صل علی صل علی وہ شاہ بھی فقیر بھی ، وہ سادہ بھی رہنا بھی بھی بھوک میں بھی اک ادا ہر حال میں حمد و ثنا ، وہ راستہ دکھلا گیا ، رحمت کی ہے آیا جگاہ صل علی صل علی۔عالم بھی وہ اُمتی بھی وہ ، کوثر عطا اس کو ہوا ، سیراب سب کو کر دیا کیا۔شاہ مفلس کیا گیا، اس دور کے سب محتاج نہیں، قربان نہیں تجھ پر سر اصل علی صل علی دسمبر ۱۹۹۳ د اے میرے پیارے خدا - برکات ہوں اس پر سدا ، اس پر درود ہو تیرا بارش کے قطروں کی طرح سورج کی کرنوں کی طرح صل علی صل علی اے میرے پیارے دلیرا ، میں بھی ہوں تیرا گرا، بل بجائے بخشش کی روا مجھ کو بھی کر دے عطاء اپنے کرم کا آسرا تو ہی رحیم و باوفا صل علی صل علی تیرا کرم ہے کیبریا - گرویدہ مجھکو کر دیا۔اپنے رسول پاک کا مجھ لیے کس و نادار کا، رحمت سے ناطہ ہو گیا، کیونکر کردن شکر و ثناء صل علی صل علی مجھ کو ختمہ یہ مل گیا، حب رسول پاک کا، کشکول خالی تھا مرا نورانیت سے بھر دیا۔احسان ہے سارا تھا میں میں میرے کچھ بھی نہ تھا عیل علی صل علی تجھ کو تیرے محبوب کا ، دیتی ہوں مول واسطہ، کر دے کرم کی انتہار یہ ہے فقیروں کی صدا، جاری رہے تیری عطا ، اسے ذات باری کبریا صل علی میں علی نسلوں کو بھی کر دے عطا، قدمت دین کا مزا ، در کے ترے وه ہوں گیا ہو فصل ان پر بھی ترا تو ہی ہو ان کا آسرا نہیں ہوں غریب و بے تو ا صل علی صل علی خواہش ہے میری اک نہیں، بس پیار تیرا ہی ملے ، تو میرے دل میں آبسے قربت تری مجھکو ملے۔آمین اے رب العالی آمین ذات کیریا ، صل علی صل علی