حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 24 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 24

مصباح ریوه 24 دسمبر ۱۹۹۳ء خرمہ نور جہاں صاحبہ یہ مضمون محترمہ بشری نے میرے اصرار پر لکھا تھا۔وعدہ یہ تھا کہ میں مرتب کر لوں گی بیشتر کی کی اتنی ایسی خاموش مجاہدہ نہیں کہ حضور ایدہ الودود نے تعزیتی بیان میں فرمایا کہ معلوم نہیں وہ حیات بھی ہیں یا نہیں۔دامتہ الباری ناصر کا محترمہ نورجہاں صاحبہ بیت حضرت حکیم عبدالمحمد جان نے اپنا نام بھی پیش کر دیا۔اللہ تعالیٰ کا احسان صاحب دہلوی رفیق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ المیہ کیم ہے کہ پہلا قافلہ جو روانہ ہوا اس کے امیر مقرر ہوئے۔مرزا عبد الرحیم بیگ صاحب کراچی ہیں۔جب اپنے والد صاحب سے اجازت طلب کی تو وہ چونکہ آپ یو پی کے معزز گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔پورے خاندان میں تنہا احمدی تھے۔ساری زندگی خدا تعالی بچپن میں والدہ محترمہ حضرت شادمانی بیگم صاعیہ رقیقہ کی خاطر قربانیاں دیتے گندی تھی اور اول دو کو بھی اس کی تلقین حضرت بانی سلسلہ کی وفات کے بعد میرٹھ سے قادیان کرتے رہے تھے۔لیکن شاید پدری محبت نے خود اجازت اپنے خاندان کے ساتھ آگئیں۔دینے کی بجائے مکر امی کی طرف موڑ دیا۔کہ تم اپنی بیوی شادی کرم مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب کو اچھی ان سے پوچھ لو۔ان کا خیال تھا کہ عمر میں کم حوصلہ ہوتی ہیں مکرم محترم عبد الحکیم صاحب کے ہاں ہوئی۔تہذیب و تمدن اور یہ وقت تو تھا ہی ایسا کہ ہر طرف موت اور وحشت و کے فرق کے باوجود انتہائی وفا کے ساتھ زندگی گزاری۔خوف کا بازار گرم تھا۔اور ابھی شادی کو بھی کم عرصہ شادی کے وقت ابنا بجا ہے میٹرک پاس تھے۔گزرا تھا۔لیکن چوتھی بچی کی پیدائش کے بعد ائی کی توجہ دلانے جب امی سے ابا جان نے پوچھا تو انہوں نے کہا پر دوبارہ پڑھائی شروع کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ضرور جائیں۔اللہ آپ کی حفاظت کرے گا۔اس پر اتنا جی فی اسے ایل ایل بی کیا۔لیکن پریکٹس دیر سے شروع ( دادا جان ) نے ابا جان کے جانے کے بعد کہا کہ میں تو سمجھتا تھا کہ تم منع کرو گی۔کیا حالات کا بھی تم کو کی۔امی بتاتی ہیں کہ دعا تو نہیں کرتی ہی تھی۔لیکن زندگی کا سب سے اہم واتقدر تقسیم ہند و پاکستان اندازہ نہ تھا۔کے وقت پیش آیا۔جب حضرت فضل عمر کی تحریک پر که خدام مرکزہ کی حفاظت کے لئے قادیان جائیں، ایا اس بات کے بعد تو میں نے اپنے مولا کے دامن کو تھام