حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 21
مصباح دیوه ۲۱ 21 دسمبر ۱۹۹۳ء کیوں کیا ہوا " یکی چیخ کر بولی۔کچھ رہے ہوں گے۔پھر آنکھ میں بند کر لیں۔مجھے گھر لے ده خود چل کہ سب سے ملیں خود بل پر دستخط جائیں میں بالکل ٹھیک ہوں۔پھر سٹریچر پر ایمر جنسی کئے۔نیاہ ہوئیں۔میں نے ہی پی لیا تھا ٹھیک تھا۔پھر روم میں جاتے ہوئے کہا حضور کو فون کرا دیں پھر آنکھیں وہ لفٹ سے نیچے اتریں اور با ہر گاڑی کی انتظار میں بند کر لیں پھر ٹیبل پر دو دفعہ آہ آہ کی آواز آئی پھر کھڑی ہوئیں تو بے ہوش ہو گئیں۔لمبی سی آواز کھنیچ کر اللہ کیا۔اور اللہ کے حضور حاضر " پھر۔۔ایمرجینسی روم میں ٹیبل پر جب میں ہو گئی (ہم سب خدا کے ہیں اور اسی کے پاس لوٹ کر نے اُن کو دیکھا تو نہ ہی پی تھما نہ قبض۔۔۔مجھے خود بہت افسوس ہے۔وہ بہت اچھی سنتے ہیں۔آپ اُن کے گھر اطلاع دے دیں۔اب اپنی کیفیت خود کیا لکھوں جس کو با علم ، هم مذاق ، هم جنون ساتھی کی تقریبی رفاقت ملی ہو وہی محسوس کر سکتا ہے کہ یوں اچانک یہ خبرشن کے کیا جان جاتا ہے۔خدا حافظ - پیاری بیشتری اللہ تعالیٰ تم پر اور تمہارے بچوں پر بے پایاں فضل فرمائے۔ہو فضل تیرا یارب یا کوئی ابتداء ہو راحتی ہیں ہم اسی میں جس میں نشر کی رضا ہو بشری کی رحلت کی خبر آناً فاناً شہر میں بلکہ دنیا کی جماعتوں میں پھیل گئی۔بیگ صاحب کے گھر آخری دیدار کے ہو سکتا ہے۔ہسپتال پہنچی تو ایمبو لینس میں ڈالا جا چکا تھا۔لئے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔مجیب عالم تھا۔کون داود بھائی اس کے مسکراتے چہرے کو بغیر پلک جھپکے کسی سے تعزیت کرتا ہر ایک دکھی تھا۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔سیکیوں کی آوازیں تھیں۔بشری مقبول ترین دیکھ رہے تھے اور ضعیف العمر عظیم ماں جس نے شریف جنم دیا تھا، پالا تھا ، بیاہا تھا، میاں اور بچوں کے ساتھ لاڈلی سب کی پیاری پرسکون سوئی ہوئی تھی۔جو کسی کو خوش باش دیکھا تھا۔ہسپتال میں خدمت کی تھی۔آخری دکھی نہ دیکھ سکتی تھی۔سب کو دکھی کر گئی شام تک آنے والوں کے لئے کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہ رہی بسٹرک لمحوں کی روداد سنا رہی تھیں۔کمیں نے اُسے کہا تھا آہستہ چلو مگر وہ کہہ یک لوگ کھڑے تھے۔عور نہیں ہی نہیں مرد بھی بشری کو مرہی تھی میں بالکل ٹھیک ہوں پھر ہم وہاں پول کے اشکوں کا ، دعاؤں کا نذرانہ دے رہے تھے۔جنازہ پاس چبوترے پر مجھے تھے لیکں نے اُس کی کمر میں ہاتھ احمدیہ ہال میں ہوتا تھا۔اس لئے لوگوں کو وہاں پہنچا دیا ڈالا ہوا تھا وہ آہستہ سے نیچے کو کھسکی اور لڑھک گیا۔احمدیہ ہال نے کسی جنازے میں اتنی رات گئے کر گر گئی۔بے ہوش ہوگئی۔ناخن ہونٹ نیلے کالے ہو اس قدر خواتین و احباب نہ دیکھے ہوں گے۔دروازے گئے۔میری چیخ شی کر داؤد آئے۔سٹریچر منگوایا اس کے سامنے بلیک بورڈ پر ۲۰ جولائی ۱۹۹۳ء کی نے آنکھیں کھولیں میں کہاں ہوں تم میرے پاس ہو تاریخ کے نیچے بیشتری داؤد کی رحلت کی خبر درج تھی۔میری بچی۔وہ بولی مجھے جلدی گھر لے جائیں بچے انتظار یہ ہال بیشتری داؤد کی جاندار آواز سے گونیا کرتا تھا۔ریاقی پر )