حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 3
۶۸۵ تو خدا اس کے دل میں اُسی وقت ڈال دیتا ہے کہ تو نے یہ کام بُرا کیا اچھا نہیں کیا۔لیکن وہ ایسے القاء کی کچھ پروا نہیں رکھتا کیونکہ اُس کا نور قلب نہایت ضعیف ہوتا ہے۔اور عقل بھی ضعیف اور قوت بہیمیہ غالب اور نفس طالب۔سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں جن کا وجودروزمرہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔اُن کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہوسکتا کیونکہ جو خدا نے لگا دیا اس کوکون دور کرے۔ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔وہ کیا ہے؟ تو بہ واستغفار اور ندامت یعنی جبکہ بُرا فعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے اُن سے صادر ہو یا حسب خاصۂ فطرتی کوئی بُرا خیال دل میں آوے تو اگر وہ تو بہ اور استغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔جب وہ بار بار ٹھوکر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور تو بہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔یہی حقیقی کفارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ الله يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا الجز و نمبر ۵۔یعنی جس سے کوئی بد عملی ہو جائے یا اپنے نفس پر کسی نوع کا ظلم کرے اور پھر پشیمان ہو کر خدا سے معافی چاہے تو وہ خدا کو غفور و رحیم پائے گا۔اس لطیف اور پُر حکمت عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس نا قصہ کا خاصہ ہے جو اُن سے سرزد ہوتا ہے اس کے مقابلہ پر خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے اور اپنی ذات میں وہ غفور ورحیم ہے یعنی اس کی مغفرت سرسری اور اتفاقی نہیں بلکہ وہ اس کی ذات قدیم کی صفت قدیم ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے۔اور جو ہر قابل پر اس کا فیضان چاہتا ہے۔یعنی جب کبھی کوئی بشر بر وقت صدورِ لغزش و گناه به ندامت و تو بہ خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اس کی طرف رجوع کرے اور یہ رجوع الہی بندہ نادم اور تائب کی طرف ایک یا دومرتبہ میں محدود نہیں بلکہ یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائمی ہے اور جب تک کوئی گناہ گار تو بہ کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔پس خدا کا قانون قدرت یہ نہیں ہے کہ جو ٹھو کر کھانے والی طبیعتیں ہیں وہ ٹھوکر نہ کھاویں یا جو لوگ قوی بهیمیه یا غضبيه کے مغلوب ہیں ان کی فطرت بدل جاوے۔بلکہ اس کا قانون جو قدیم سے بندھا چلا آتا ہے یہی ہے کہ ناقص لوگ جو بمقتضائے اپنے ذاتی نقصان کے گناہ کریں وہ تو بہ اور استغفار کر کے بخشے جائیں۔النساء : ااا ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۸۵ تا ۱۸۷ حاشیہ نمبر۱۱)