حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 4
۶۸۶ واضح ہو کہ تو بہ لغت عرب میں رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔اسی وجہ سے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام بھی تو اب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جب انسان گناہوں سے دست بردار ہو کر صدق دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے بڑھ کر اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور یہ امر سراسر قانون قدرت کے مطابق ہے کیونکہ جب کہ خدا تعالیٰ نے نوع انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ جب ایک انسان سچے دل سے دوسرے انسان کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کا دل بھی اس کے لئے نرم ہو جاتا ہے۔تو پھر عقل کیونکر اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بندہ تو سچے دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے مگر خدا اس کی طرف رجوع نہ کرے بلکہ خدا جس کی ذات نہایت کریم و رحیم واقع ہوئی ہے۔وہ بندہ سے بہت زیادہ اُس کی طرف رجوع کرتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے تو اب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا۔سو بندہ کا رجوع تو پشیمانی اور ندامت اور تذلل اور انکسار کے ساتھ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا رجوع رحمت اور مغفرت کے ساتھ۔اگر رحمت خدا تعالیٰ کی صفات میں سے نہ ہو تو کوئی مخلصی نہیں پاسکتا۔افسوس! کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی صفات پر غور نہیں کی۔اور تمام مدار اپنے فعل اور عمل پر رکھا ہے مگر وہ خدا جس نے بغیر کسی کے عمل کے ہزاروں نعمتیں انسان کے لئے زمین پر پیدا کیں۔کیا اُس کا یہ خلق ہوسکتا ہے کہ انسان ضَعِيفُ البنيان جب اپنی غفلت سے متنبہ ہو کر اس کی طرف رجوع کرے اور رجوع بھی ایسا کرے کہ گویا مر جاوے اور پہلا ناپاک چولا اپنے بدن پر سے اُتار دے اور اُس کی آتشِ محبت میں جل جائے تو پھر بھی خدا اس کی طرف رحمت کے ساتھ توجہ نہ کرے۔کیا اس کا نام خدا کا قانونِ قدرت ہے؟ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِين۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۳۳ ۱۳۴) یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ تو بہ کے لئے تین شرائط ہیں۔بدوں ان کی تکمیل کے سچی تو بہ جسے تَوْبَةُ النُّصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی۔ان ہر سہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جوان خصائل ردیہ کے محرک ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے۔کیونکہ حیطۂ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصوری صورت رکھتا ہے۔پس تو بہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ان خیالات فاسد و تصورات بد کو چھوڑ دے۔مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہو تو اُسے تو بہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے