حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 2
۶۸۴ عالم فاضل پیدا نہیں ہوتا۔اسی طرح وہ پیدا ہو کر جب ہوش پکڑتا ہے تو اخلاقی حالت اس کی نہایت گری ہوئی ہوتی ہے۔چنانچہ جب کوئی نو عمر بچوں کے حالات پر غور کرے تو صاف طور پر اس کو معلوم ہوگا کہ اکثر بچے اس بات پر حریص ہوتے ہیں کہ ادنی ادنی نزاع کے وقت دوسرے بچہ کو ماریں اور اکثر اُن سے بات بات میں جھوٹ بولنے اور دوسرے بچوں کو گالیاں دینے کی خصلت مترشح ہوتی ہے اور بعض کو چوری اور چغل خوری اور حسد اور بخل کی بھی عادت ہوتی ہے اور پھر جب جوانی کی مستی جوش میں آتی ہے تو نفس امارہ ان پر سوار ہو جاتا ہے اور اکثر ایسے نالائق اور نا گفتنی کام اُن سے ظہور میں آتے ہیں جو صریح فسق و فجور میں داخل ہوتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ اکثر انسانوں کے لئے اول مرحلہ گندی زندگی کا ہے اور پھر جب سعید انسان اوائل عمر کے تند سیلاب سے باہر آ جاتا ہے تو پھر وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتا ہے اور سچی توبہ کر کے ناکردنی باتوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اپنی فطرت کے جامہ کو پاک کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔یہ عام طور پر انسانی زندگی کے سوانح ہیں جو نوع انسان کو طے کرنے پڑتے ہیں۔پس اس سے ظاہر ہے کہ اگر یہی بات سچ ہے کہ تو بہ قبول نہیں ہوتی تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا ارادہ ہی نہیں کہ کسی کو نجات دے۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۹۲ ۱۹۳) اگر چہ خدائے تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ تم تو حید ہر ایک نفس میں موجود ہے لیکن ساتھ ہی اس کے یہ بھی کئی مقامات میں کھول کر بتلا دیا ہے کہ وہ تم سب میں مساوی نہیں بلکہ بعض کی فطرتوں پر جذبات نفسانی اُن کے ایسے غالب آگئے ہیں کہ وہ نور کا لمفقود ہو گیا ہے۔پس ظاہر ہے کہ قوی بَهِيمِيه يا غضبه کا فطرتی ہونا وحدانیت الہی کے فطرتی ہونے کو منافی نہیں ہے۔خواہ کوئی کیسا ہی ہوا پرست اور نفس امارہ کا مغلوب ہو پھر بھی کسی نہ کسی قدر نور فطرتی اُس میں پایا جاتا ہے۔مثلاً جوشخص بوجہ غلبہ قولی شهوِيَّه يا غبيه چوری کرتا ہے یا خون کرتا ہے یا حرامکاری میں مبتلا ہوتا ہے تو اگر چہ یہ فعل اس کی فطرت کا مقتضا ہے لیکن بمقابلہ اس کے نور صلاحیت جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے وہ اس کو اُسی وقت جب اُس سے کوئی حرکت بے جا صادر ہو جائے ملزم کرتا ہے۔جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوتها الجز نمبر ۳۰ یعنی ہر یک انسان کو ایک قسم کا خدا نے الہام عطا کر رکھا ہے جس کو نور قلب کہتے ہیں اور وہ یہ کہ نیک اور بد کام میں فرق کر لینا۔جیسے کوئی چور یا خونی چوری یا خون کرتا ہے الشمس: