حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 60
۷۴۲ کی طرف سے ہٹتا ہے اور گناہ کرتا ہے تو وہ ایک ظلمت کے نیچے آ کر عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔گناہ اصل میں جناح تھا جس کے معنے میل کرنے اور اصل مرکز سے ہٹ جانے کے ہیں۔پس جب انسان خدا سے اعراض کرتا ہے اور اس کے نور کے مقابل سے ہٹ جاتا ہے اور اس روشنی سے دور ہو جاتا ہے جوصرف خدا کی طرف سے اترتی اور دلوں پر نازل ہوتی ہے تو وہ ایک تاریکی میں مبتلا ہوتا ہے جو اس کے لئے عذاب کا موجب ہو جاتی ہے۔پھر جس قسم کا یہ اعراض ہوا سی قسم کا عذاب اُسے دُکھ دیتا ہے۔لیکن اگر انسان پھر اس مرکز کی طرف آنا چاہے اور اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچا وے جو الہی روشنی کے پڑنے کا مقام ہے تو وہ پھر اس گمشدہ نور کو پالیتا ہے۔کیونکہ جیسے دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے کمرہ میں روشنی کو ایسے وقت پاسکتے ہیں جب اس کی کھڑکیاں کھول دیں۔ویسے ہی روحانی نظام میں مرکز اصلی کی طرف بازگشت کرنا ہی راحت کا موجب ہو سکتا ہے اور اس دکھ درد سے بچاتا ہے جو اس مرکز کو چھوڑنے سے پیدا ہوا تھا۔اسی کا نام تو بہ ہے۔اور یہی ظلمت جو اس طرح پر پیدا ہوتی ہے ضلالت اور جہنم کہلاتی ہے اور مرکز اصلی کی طرف رجوع کرنا جو راحت پیدا کرتا ہے جنت سے تعبیر ہوتا ہے۔اور گناہ سے ہٹ کر پھر نیکی کی طرف آنا جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو جاوے اس بدی کا کفارہ ہو کر اُسے دُور کر دیتا ہے اور اس کے نتائج کو بھی ساب کر دیتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ لے یعنی نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔چونکہ بدی میں ہلاکت کی زہر ہے اور نیکی میں زندگی کا تریاق اس لئے بدی کے زہر کو دور کرنے کا ذریعہ نیکی ہی ہے۔یا اسی کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں عذاب راحت کی نفی کا نام ہے اور نجات راحت اور خوشحالی کے حصول کا نام ہے۔اسی طرح پر جیسے بیماری اس حالت کا نام ہے جب حالت بدن مجری طبیعت پر نہ رہے اور صحت وہ حالت ہے کہ امور طبعیہ اپنی اصل حالت پر قائم ہوں اور جیسے کسی ہاتھ پاؤں یا کسی عضو کے اپنے مقامِ خاص سے ذرا ادھر اُدھر کھسک جانے سے درد شروع ہو جاتا ہے اور وہ عضو نکما ہو جاتا ہے اور اگر چندے اسی حالت پر رہے تو پھر نہ خود بالکل بے کار ہو جاتا ہے بلکہ دوسرے اعضاء پر بھی اپنا بُرا اثر ڈالنے لگتا ہے۔بعینہ یہی حالت روحانی ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے سامنے سے جو اس کی زندگی کا اصل موجب اور مایۂ حیات ہے ہٹ جاتا ہے اور فطرتی دین کو چھوڑ بیٹھتا ہے تو عذاب شروع ہو جاتا ہے اور اگر قلب مردہ نہ ہو گیا ہو اور اس میں احساس کا مادہ باقی ہو تو وہ اُس عذاب کو خوب محسوس کرتا ہے اور اگر هود: ۱۱۵