حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 61
۷۴۳ اس بگڑی ہوئی حالت کی اصلاح نہ کی جاوے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ پھر ساری روحانی قو تیں رفتہ رفتہ نکمی اور بیکار ہو جائیں اور ایک شدید عذاب شروع ہو جاوے۔پس اب کیسی صفائی کے ساتھ یہ امر سمجھ میں آ جاتا ہے کہ کوئی عذاب باہر سے نہیں آتا بلکہ خود انسان کے اندر ہی سے نکلتا ہے۔ہم کو اس سے انکار نہیں کہ عذاب خدا کا فعل ہے۔بے شک اسی کا فعل ہے مگر اسی طرح جیسے کوئی زہر کھائے تو خدا اُسے ہلاک کر دے پس خدا کا فعل انسان کے اپنے فعل کے بعد ہوتا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے۔نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ ا یعنی خدا کا عذاب وہ آگ ہے جس کو خدا بھڑ کاتا ہے۔اور اس کا شعلہ انسان کے دل ہی سے اٹھتا ہے۔اس کا مطلب صاف لفظوں میں یہی ہے کہ عذاب کا اصل پیج اپنے وجود ہی کی ناپاکی ہے جو عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔اسی طرح بہشت کی راحت کا اصل سرچشمہ بھی انسان کے اپنے ہی افعال ہیں۔اگر وہ فطرتی دین کو نہیں چھوڑتا۔اگر وہ مرکز اعتدال سے ادھر ادھر نہیں ہٹتا اور عبودیت الوہیت کے محاذ میں پڑی ہوئی اُس کے انوار سے حصہ لے رہی ہے تو پھر یہ اس عضو صحیح کی طرح ہے جو مقام سے ہٹ نہیں گیا اور برابر اس کام کو دے رہا ہے جس کے لئے خدا نے اس کو پیدا کیا ہے اور اسے کچھ بھی درد نہیں بلکہ راحت ہے۔قرآن شریف میں فرمایا ہے۔وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّةٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ سے یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کرتے ہیں اُن کو خوشخبری دے دو کہ وہ اُن باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے ندیاں بہ رہی ہیں۔اس آیت میں ایمان کو اللہ تعالیٰ نے باغ سے مثال دی ہے اور اعمال صالحہ کو نہروں سے۔جو رشتہ اور تعلق نہر جار یہ اور درخت میں ہے وہی رشتہ اور تعلق اعمال صالحہ کو ایمان سے ہے۔پس جیسے کوئی باغ ممکن ہی نہیں کہ پانی کی بدوں سرسبز اور ثمر دار ہو سکے اسی طرح پر کوئی ایمان جس کے ساتھ اعمال صالحہ نہ ہوں مفید اور کارگر نہیں ہوسکتا پس بہشت کیا ہے وہ ایمان اور اعمال ہی کے مجسم نظارے ہیں وہ بھی دوزخ کی طرح کوئی خارجی چیز نہیں ہے بلکہ انسان کا بہشت بھی اس کے اندر ہی سے نکلتا ہے۔یاد رکھو کہ اُس جگہ پر جو راحتیں ملتی ہیں وہ وہی پاک نفس ہوتا ہے جو دنیا میں بنایا جاتا ہے پاک ایمان پودا سے مماثلت رکھتا ہے اور اچھے اچھے اعمال اخلاق فاضلہ یہ اُس پودا کی آبپاشی کے لئے بطور نہروں کے ہیں جو اس کی سرسبزی اور شادابی کو بحال رکھتے ہیں۔اس دنیا میں تو یہ ایسے ہیں جیسے خواب میں دیکھے الهمزة: ۸۷ ٢ البقرة: ٢٦