حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 59
۷۴۱ اس لئے کہ بسا اوقات یہ جسم جلایا بھی جاتا ہے اور عجائب گھروں میں لاشیں بھی رکھی جاتی ہیں اور مدتوں تک قبر سے باہر بھی رکھا جاتا ہے۔اگر یہی جسم زندہ ہو جایا کرتا تو البتہ لوگ اُس کو دیکھتے مگر بایں ہمہ قرآن سے زندہ ہو جانا ثابت ہے لہذا یہ ماننا پڑتا ہے کہ کسی اور جسم کے ذریعہ سے جس کو ہم نہیں دیکھتے انسان کو زندہ کیا جاتا ہے اور غالباً وہ جسم اسی جسم کے لطائف جوہر سے بنتا ہے۔تب جسم ملنے کے بعد انسانی قومی بحال ہوتے ہیں اور یہ دوسرا جسم چونکہ پہلے جسم کی نسبت نہایت لطیف ہوتا ہے۔اس لئے اس پر مکاشفات کا دروازہ نہایت وسیع طور پر کھلتا ہے اور معاد کی تمام حقیقتیں جیسی کہ وہ ہیں كَمَاهِی ہی نظر آ جاتی ہیں تب خطا کرنے والوں کے علاوہ جسمانی عذاب کے ایک حسرت کا عذاب بھی ہوتا ہے۔غرض یہ اصول متفق علیہ اسلام میں ہے کہ قبر کا عذاب یا آرام بھی جسم کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے۔اور اسی بات کو دلائل عقلیہ بھی چاہتے ہیں کیونکہ متواتر تجربہ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کے رُوحانی قومی بغیر جسم کے جوڑ کے ہرگز ظہور پذیر نہیں ہوتے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۷۱۷۰) عاقبت کی سزا اپنے اندر ایک فلسفیانہ حقیقت رکھتی ہے جس کو کوئی مذہب بجز اسلام کے کامل طور پر بیان نہیں کر سکا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَ أَضَلُّ سَبِيلًا لا یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہو وہ اُس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بھی بدتر۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس اسی جہان سے انسان اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔جو یہاں ان حواس کو نہیں پاتا وہاں وہ ان حواس سے بہرہ ور نہیں ہو گا۔یہ ایک دقیق راز ہے جس کو عام لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے۔اگر اس کے یہ معنے نہیں تو یہ تو پھر بالکل غلط ہے کہ اندھے اس جہان میں بھی اندھے ہوں گے۔اصل بات یہی ہے کہ خدا تعالی کو بغیر کسی غلطی کے پہنچانا اور اس دنیا میں صحیح طور پر اس کی صفات واسماء کی معرفت حاصل کرنا آئندہ کی تمام راحتوں اور روشنیوں کی کلید ہے اور یہ آیت اس امر کی طرف صاف اشارہ کر رہی ہے کہ اسی دنیا سے ہم عذاب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور اس دنیا کی کورانہ زیست اور ناپاک افعال ہی اُس دوسرے عالم میں عذاب جہنم کی صورت میں نمودار ہو جائیں گے اور وہ کوئی نئی بات نہ ہوں گے۔جیسے ایک شخص گھر کے دروازے بند کر لینے سے روشنی سے محروم ہو جاتا ہے اور تازہ اور زندگی بخش ہوا اُسے نہیں مل سکتی یا کسی زہر کھا لینے سے اس کی زندگی باقی نہیں رہ سکتی اسی طرح پر جب ایک آدمی خدا بنی اسرآئیل :۷۳