حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 592 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 592

۱۲۷۴ قادر ہے وہ بارگہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے اس الہامی عبارت کا یہ مطلب تھا کہ خدا تعالیٰ ٹوٹا ہوا کام بنادے گا۔مگر پھر کچھ عرصے کے بعد بنا بنایا توڑ دے گا۔چنانچہ یہ الہام قادیان میں ہی سیٹھ صاحب کو سُنایا گیا۔اور تھوڑے دن ہی گذرے تھے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے تجارتی امور میں رونق پیدا کر دی اور ایسے اسباب غیب سے پیدا ہوئے کہ فتوحات مالی شروع ہو گئے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ بنا بنایا کام ٹوٹ گیا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۶۰،۲۵۹) عرصہ قریباً پچیس برس کا گذر گیا ہے کہ مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ ایک بڑی لمبی نالی ہے کہ جو کئی کوس تک چلی جاتی ہے۔اور اس نالی پر ہزار ہا بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اس طرح پر کہ بھیڑوں کا سرنالی کے کنارہ پر ہے۔اس غرض سے کہ تا ذبح کرنے کے وقت ان کا خون نالی میں پڑے۔اور باقی حصہ اُن کے وجود کا نالی سے باہر ہے اور نالی شرقاً غرباً واقع ہے اور بھیڑوں کے سر نالی پر جنوب کی طرف سے رکھے گئے ہیں اور ہر ایک بھیڑ پر ایک قصاب بیٹھا ہے اور ان تمام قصابوں کے ہاتھ میں ایک ایک چھری ہے جو ہر ایک بھیڑ کی گردن پر رکھی ہوئی ہے۔اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے گویا خدا تعالیٰ کی اجازت کے منتظر ہیں۔اور میں اس میدان میں شمالی طرف پھر رہا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو دراصل فرشتے ہیں بھیڑوں کے ذبح کرنے کے لئے مستعد بیٹھے ہیں محض آسمانی اجازت کی انتظار ہے۔تب میں ان کے نزدیک گیا اور میں نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ لا یعنے ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پروا کیا رکھتا ہے اگر تم اس کی پرستش نہ کرو اور اس کے حکموں کو نہ سنو۔اور میرا یہ کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے سمجھ لیا کہ ہمیں اجازت ہوگئی۔گویا میرے منہ کے لفظ خدا کے لفظ تھے۔تب فرشتوں نے جو قصابوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے فی الفور اپنی بھیڑوں پر چھر میں پھیر دیں۔اور چھریوں کے لگنے سے بھیڑوں نے ایک دردناک طور پر تڑپنا شروع کیا۔تب ان فرشتوں نے سختی سے ان بھیڑوں کی گردن کی تمام رگیں کاٹ دیں۔اور کہا کہ تم چیز کیا ہو۔گوہ کھانے والی بھیٹر میں ہی ہو۔میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ ایک سخت و باء ہوگی اور اس سے بہت لوگ اپنی شامت اعمال سے مریں الفرقان: ۷۸