حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 593 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 593

۱۲۷۵ گے۔اور میں نے یہ خواب بہتوں کو سُنا دی جن میں سے اکثر لوگ اب تک زندہ ہیں اور حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔پھر ایسا ہی ظہور میں آیا اور پنجاب اور ہندوستان اور خاص کر امرتسر اور لاہور میں اس قدر ہیضہ پھوٹا کہ لاکھوں جانیں اس سے تلف ہوئیں۔اور اس قدرموت کا بازار گرم ہوا کہ مُردوں کو گاڑیوں پر لاد کر لے جاتے تھے اور مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا مشکل ہو گیا۔( تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۶۴،۲۶۳) یہ خدا کا قول ہے کہ تیرے ذریعہ سے مریضوں پر برکت نازل ہو گی۔روحانی اور جسمانی دونوں قسم پر مشتمل ہے۔روحانی طور پر اس لئے کہ میں دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ پر ہزار ہا لوگ کے مریضوں پر بیعت کرنے والے ایسے ہیں کہ پہلے ان کی عملی حالتیں خراب تھیں اور پھر بیعت کرنے کے بعد اُن کے عملی حالات درست ہو گئے اور طرح طرح کے معاصی سے انہوں نے توبہ کی اور نماز کی پابندی اختیار کی اور میں صد ہا ایسے لوگ اپنی جماعت میں پاتا ہوں کہ جن کے دلوں میں یہ سوزش اور تپش پیدا ہوگئی ہے کہ کس طرح وہ جذبات نفسانیہ سے پاک ہوں۔اور جسمانی امراض کی نسبت میں نے بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ اکثر خطرناک امراض والے میری دعا اور توجہ سے شفایاب ہوئے ہیں۔میرا لڑ کا مبارک احمد قریباً دو برس کی عمر میں ایسا بیمار ہوا کہ حالت یاس ظاہر ہو گئی۔اور ابھی میں دعا کر رہا تھا کہ کسی نے کہا کہ لڑکا فوت ہو گیا ہے۔یعنی اب بس کرو دعا کا وقت نہیں۔مگر میں نے دعا کرنا بس نہ کیا اور جب میں نے اسی حالت توجہ الی اللہ میں لڑکے کے بدن پر ہاتھ رکھا تو معا مجھے اس کا دم آنا محسوس ہوا۔اور ابھی میں نے ہاتھ اس سے علیحدہ نہیں کیا تھا کہ صریح طور پر لڑ کے میں جان محسوس ہوئی اور چند منٹ کے بعد ہوش میں آکر بیٹھ گیا۔اور پھر طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا اور ایک سخت تپ محرقہ کے رنگ میں چڑھا۔جس سے لڑکا بالکل بے ہوش ہو گیا اور بے ہوشی میں دونوں ہاتھ مارتا تھا۔مجھے خیال آیا کہ اگر چہ انسان کو موت سے گریز نہیں مگر اگر لڑکا ان دنوں میں جو طاعون کا زور ہے فوت ہو گیا تو تمام دشمن اس تپ کو طاعون ٹھہرائیں گے اور خدا تعالیٰ کی اس پاک وہی کی تکذیب کریں گے جو اُس نے فرمایا ہے اِنّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِى الدَّارِ۔یعنی میں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے طاعون سے بچاؤں گا۔اس خیال سے میرے دل پر وہ صدمہ وارد ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔قریباً رات کے بارہ بجے کا وقت تھا کہ جب لڑکے کی حالت ابتر ہوگئی اور دل میں خوف پیدا