حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 591 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 591

۱۲۷۳ سخت منکر ہے اور تیرے نشانوں اور پیشین گوئیوں سے جو تو نے اپنے رسول پر ظاہر فرما ئیں سخت انکاری ہے اور اس مقدمہ کی آخری حقیقت کھلنے سے یہ لا جواب ہو سکتا ہے اور تو ہر بات پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی امر تیرے علم محیط سے مخفی نہیں۔تب خدا نے جو اپنے نیچے دین اسلام کا حامی ہے اور اپنے رسول کی عزت اور عظمت چاہتا ہے رات کے وقت رؤیا میں کل حقیقت مجھ پر کھول دی اور ظاہر کیا کہ تقدیر الہی میں یوں مقدر ہے کہ اس کی مسل چیف کورٹ سے عدالت ماتحت میں پھر واپس آئے گی اور پھر اس عدالت ماتحت میں نصف قید اس کی تخفیف ہو جائے گی مگر بری نہیں ہو گا۔اور جو اس کا دوسرا رفیق ہے وہ پوری قید بھگت کر خلاصی پائے گا۔اور بری وہ بھی نہیں ہو گا۔پس میں نے اس خواب سے بیدار ہو کر اپنے خدا وند کریم کا شکر کیا جس نے مخالف کے سامنے مجھ کو مجبور ہونے نہ دیا اور اسی وقت میں نے یہ رویا ایک جماعت کثیر کو سنا دیا اور اس ہند و صاحب کو بھی اسی دن خبر کر دی۔اب مولوی صاحب !! آپ خود یہاں آ کر اور خود اس جگہ پہنچ کر جس طرح سے جی چاہے اس ہند و صاحب سے جو اس جگہ قادیان میں موجود ہے اور نیز دوسرے لوگوں سے دریافت کر سکتے ہیں کہ یہ خبر جو میں نے بیان کی ہے یہ ٹھیک درست ہے یا اس میں کچھ کمی بیشی ہے؟ براہین احمدیہ ہر چہار تحصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۷۷ تا ۲۷۹ حاشیه در حاشیہ نمبرا) ایک دفعہ مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کے فرش کو آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس عاجز نے بار بار پانی ڈال کر بجھایا ہے۔اسی وقت میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بہ یقین کامل یہ تعبیر ڈالی گئی کہ شیخ صاحب پر اور ان کی عزت پر سخت مصیبت آوے گی اور وہ مصیبت اور بلاصرف میری دعا سے دُور کی جاوے گی۔میں نے اس خواب سے شیخ صاحب موصوف کو بذریعہ ایک مفضل خط کے اطلاع دے دی تھی۔چنانچہ اس کے چھ ماہ بعد شیخ مہر علی صاحب ایک ایسے الزام میں پھنس گئے کہ انہیں پھانسی کا حکم دیا گیا ایسے نازک وقت میں اس کے بیٹے کی درخواست سے دعا کی گئی اور رہائی کی بشارت اُن کے بیٹے کو لکھی گئی چنا نچہ اس کے بعد وہ بالکل رہا ہو گئے۔(نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۷۹) چند سال ہوئے ہیں کہ سیٹھ عبدالرحمن صاحب تاجر مدراس جو اول درجہ کے مخلص جماعت میں سے ہیں قادیان میں آئے تھے۔اور ان کی تجارت کے امور میں کوئی تفرقہ اور پریشانی واقعہ ہو گئی تھی۔انہوں نے دُعا کے لئے درخواست کی تب یہ الہام ہوا جو ذیل میں درج ہے۔