حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 590
۱۲۷۲ کرا کر وصول کیا گیا اور اس غبن کے سبب حسین کامی کو موقوف کیا گیا۔“ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۶۶،۵۶۵) عرصہ تخمینا بارہ برس کا ہوا ہے کہ ایک ہند و صاحب کہ جواب آریہ سماج قادیان کے ممبر اور صیح وسلامت موجود ہیں حضرت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آنجناب کی پیشین گوئیوں سے سخت منکر تھا اور اس کا پادریوں کی طرح شدّت عناد سے یہ خیال تھا کہ یہ سب پیشگوئیاں مسلمانوں نے آپ بنالی ہیں ورنہ آنحضرت پر خدا نے کوئی امر غیب ظاہر نہیں کیا اور ان میں یہ علامت نبوت موجود ہی نہیں تھی۔مگر سبحان اللہ کیا فضل خدا کا اپنے نبی پر ہے اور کیا بلندشان اس معصوم اور مقدس نبی کی ہے کہ جس کی صداقت کی شعاعیں اب بھی ایسی ہی چمکتی ہیں کہ جیسی قدیم سے چمکتی آئی ہیں۔کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اس ہندو صاحب کا ایک عزیز کسی ناگہانی بیچ میں آ کر قید ہو گیا۔اور اس کے ہمراہ ایک اور ہندو بھی قید ہوا۔اور ان دونوں کا چیف کورٹ میں اپیل گذرا۔اس حیرانی اور سرگردانی کی حالت میں ایک دن اس آریہ صاحب نے مجھ سے یہ بات کہی کہ غیبی خبر اسے کہتے ہیں کہ آج کوئی یہ بتلا سکے کہ اس ہمارے مقدمہ کا انجام کیا ہے۔تب میں نے جواب دیا کہ غیب تو خاصہ خدا کا ہے اور خدا کے پوشیدہ بھیدوں سے نہ کوئی نجومی واقف ہے نہ رمال نہ فال گیر نہ اور کوئی مخلوق۔ہاں خدا جو آسمان و زمین کی ہر یک شدنی سے واقف ہے اپنے کامل اور مقدس رسولوں کو اپنے ارادہ اور اختیار سے بعض اسرار غیبیہ پر مطلع کرتا ہے اور نیز کبھی کبھی جب چاہتا ہے تو اپنے بچے رسول کے کامل تابعین پر جو اہلِ اسلام ہیں ان کی تابعداری کی وجہ سے اور نیز اس باعث سے کہ وہ اپنے رسول کے علوم کے وارث ہیں بعض اسرار پوشیدہ ان پر بھی کھولتا ہے تا اُن کے صدق مذہب پر ایک نشان ہو لیکن دوسری قو میں جو باطل پر ہیں جیسے ہندو اور ان کے پنڈت اور عیسائی اور ان کے پادری وہ سب ان کامل برکتوں سے بے نصیب ہیں۔میرا یہ کہنا ہی تھا کہ وہ شخص اس بات پر اصراری ہو گیا کہ اگر اسلام کے متبعین کو دوسری قوموں پر ترجیح ہے تو اسی موقع پر اس ترجیح کو دکھلانا چاہئے اس کے جواب میں ہر چند کہا گیا کہ اس میں خدا کا اختیار ہے انسان کا اس پر حکم نہیں مگر اس آریہ نے اپنے انکار پر بہت اصرار کیا۔غرض جب میں نے دیکھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور دین اسلام کی عظمتوں سے سخت منکر ہے تب میرے دل میں خدا کی طرف سے بھی جوش ڈالا گیا کہ خدا اس کو اسی مقدمہ میں شرمندہ اور لا جواب کرے اور میں نے دُعا کی کہ اے خداوند کریم تیرے نبی کریم کی عزت اور عظمت سے یہ شخص