حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 589
۱۲۷۱ میں نے اپنے اشتہار مورخہ ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ رومی سلطنت کے ارکان دولت بکثرت ایسے ہیں جن کا چال و چلن سلطنت کو مضر ہے اور جیسا اسی اشتہار میں درج ہے اس امر کی اشاعت کا یہ باعث ہوا تھا کہ ایک شخص مسلمی حسین بک کامی وائس قونصل مقیم کراچی جو سفیر روم کہلاتا تھا قادیان میں میرے پاس آیا۔اور وہ خیال رکھتا تھا کہ وہ اور اس کے باپ سلطنت ٹرکی کے بڑے خیر خواہ اور امین اور دیانت دار ہیں مگر جب وہ میرے پاس آیا تو میری فراست نے گواہی دی کہ یہ شخص امین اور پاک باطن نہیں اور ساتھ ہی میرے خدا نے مجھے القا کیا کہ رومی سلطنت انہی لوگوں کے شامت اعمال کے سبب خطرہ میں ہے۔سو میں اس سے بیزار ہوا لیکن اُس نے خلوت میں کچھ باتیں کرنے کے لئے درخواست کی چونکہ وہ مہمان تھا اس لئے اخلاقی حقوق کی وجہ اس کی درخواست کو رد نہ کیا گیا۔پس خلوت میں اُس نے دعا کے لئے درخواست کی۔تب اس کو وہی جواب دیا گیا جو اشتہا ر ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء میں درج کیا گیا تھا۔اور اس تقریر میں دو پیشگوئیاں تھیں۔(۱) ایک یہ کہ تم لوگوں کا چال چلن اچھا نہیں اور دیانت اور امانت کے نیک صفات سے تم محروم ہو (۲) دوم یہ کہ اگر تیری یہی حالت رہی تو تجھے اچھا پھل نہیں ملے گا اور تیرا انجام بد ہو گا۔پھر اسی اشتہار میں یہ لکھا تھا کہ بہتر تھا کہ یہ میرے پاس نہ آتا۔میرے پاس سے ایسی بدگوئی سے واپس جانا اس کی سخت بد قسمتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ میری نصیحت اُس کو بُری لگی اور اس نے جا کر میری بدگوئی کی۔پھر اشتہار ۲۵ / جون ۱۸۹۷ء میں یہ لکھا گیا تھا کہ کیا ممکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں۔یہ تو میرے الہامات تھے جو لاکھوں انسانوں میں بذریعہ اشتہارات شائع کئے گئے تھے۔مگر افسوس کہ ہزار ہا مسلمان اور اسلامی ایڈیٹر مجھ پر جوش کے ساتھ ٹوٹ پڑے اور حسین کامی کی نسبت لکھا کہ وہ نائب خلیفۃ اللہ سلطان روم ہے اور پاک باطنی سے سراپا نور ہے۔اور میری نسبت لکھا کہ یہ واجب القتل ہے۔سو واضح ہو کہ اس واقعہ کے دو سال بعد یہ پیشگوئیاں ظہور میں آئیں اور حسین کامی کی خیانت اور غبن کا ہندوستان میں شور مچ گیا۔چنانچہ ہم اخبار نیر آصفی مدراس مورخہ ۱۲ اکتوبر ۱۸۹۹ء میں سے تھوڑا سا نقل کرتے ہیں۔حسین کامی نے بڑی بے شرمی کے ساتھ (چندہ مظلومان کریٹ جو ہند میں جمع ہوا تھا اس کے تمام) روپیہ کو بغیر ڈکار لینے کے ہضم کر لیا۔اور کارکن کمیٹی نے بڑی فراست اور عرق ریزی سے اگلوایا۔یہ روپیہ ایک ہزار چھ سو کے قریب تھا جو کہ حسین کامی کی اراضیات مملو کہ کو نیلام