حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 588 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 588

۱۲۷۰ آپ روانہ کریں گے۔دوسرے دن وہ خط آ گیا۔جب میرا خط ان کو ملا تو وہ دریائے حیرت میں ڈوب گئے کہ یہ غیب کی خبر کس طرح مل گئی کیونکہ میرے اس راز کی خبر کسی کو نہ تھی اور ان کا اعتقاد اس قدر بڑھا کہ وہ محبت اور ارادت میں فنا ہو گئے اور انہوں نے ایک چھوٹی سی یادداشت کی کتاب میں وہ دونوں نشان متذکرہ بالا درج کر دیئے اور ہمیشہ ان کو پاس رکھتے تھے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۵۸،۲۵۷) ایک وکیل صاحب سیالکوٹ میں ہیں جن کا نام لالہ بھیم سین ہے۔ایک مرتبہ جب انہوں نے اس ضلع میں وکالت کا امتحان دیا تو میں نے ایک خواب کے ذریعہ سے ان کو بتلایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا مقدر ہے کہ اس ضلع کے کل اشخاص جنہوں نے وکالت یا مختاری کا امتحان دیا ہے ، فیل ہو جائیں گے مگر سب میں سے صرف تم ایک ہو کہ وکالت میں پاس ہو جاؤ گے۔اور یہ خبر میں نے تمہیں کے قریب اور لوگوں کو بھی بتلائی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور سیالکوٹ کی تمام جماعت کی جماعت جنہوں نے وکالت یا مختار کاری کا امتحان دیا تھا فیل کئے گئے اور صرف لالہ بھیم سین پاس ہو گئے اور اب تک وہ سیالکوٹ میں زندہ موجود ہیں۔اور جو کچھ میں نے بیان کیا وہ حلفاً اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ اصفحہ ۲۵۶) اس ملک پنجاب میں جب دیانند بانی مبانی آریہ مذہب نے اپنے خیالات پھیلائے اور سفلہ طبع ہندوؤں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر اور ایسے ہی دوسرے انبیاء کی تو ہین پر چالاک کر دیا اور خود بھی قلم پکڑتے ہی اپنی شیطانی کتابوں میں جابجا خدا کے تمام پاک اور برگزیدہ نبیوں کی تحقیر اور تو ہین شروع کی اور خاص اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں بہت کچھ جھوٹ کی نجاست کو استعمال کیا اور بزرگ پیغمبروں کو گندی گالیاں دیں۔تب مجھے اس کی نسبت الہام ہوا کہ :۔خدا تعالیٰ ایسے موذی کو جلد تر دنیا سے اٹھالے گا۔اور یہ بھی الہام ہوا سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرُ۔یعنی آریہ مذہب کا انجام یہ ہوگا کہ خدا ان کو شکست دے گا اور آخر وہ آریہ مذہب سے بھاگیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے اور آخر کا لعدم ہو جائیں گے۔یہ الہام مدت دراز کا ہے جس پر قریباً تیس برس کا عرصہ گذرا ہے۔جس سے اس جگہ کے ایک آریہ یعنی لالہ شرمیت کو اطلاع دی گئی تھی اور اس کو کھلے طور پر کہا گیا تھا کہ ان کا بد زبان پنڈت دیا نند اب جلد تر فوت ہو جائے گا۔چنانچہ ابھی ایک سال نہیں گذرا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اس پنڈت بد زبان سے اپنے دین کو نجات دی۔( تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۰۷)