حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 587 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 587

١٢٦٩ وہ ایسے مشکل اور فقدانِ اسباب حل مشکل سے کامل طور پر مطلع تھے اس لئے بلا اختیار دل میں اس خواہش نے جوش مارا کہ مشکل کشائی کے لئے حضرت احدیت میں دعا کی جائے تا اس دعا کی قبولیت سے ایک تو اپنی مشکل حل ہو جائے اور دوسرے مخالفین کے لئے تائید الہی کا نشان پیدا ہو۔ایسا نشان کہ اس کی سچائی پر وہ لوگ گواہ ہو جائیں۔سو اسی دن دُعا کی گئی اور خدائے تعالیٰ سے یہ مانگا گیا کہ وہ نشان کے طور پر مالی مدد سے اطلاع بخشے۔تب یہ الہام ہوا۔دس دن کے بعد میں موج دکھاتا ہوں۔اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ فِي شَائِلِ مِقْيَاسِ۔دن دل یو گوٹو امرتسر۔“ یعنی دس دن کے بعد روپیہ آئے گا۔خدا کی مددنزدیک ہے۔اور جیسے جب جننے کے لئے اونٹنی دم اُٹھاتی ہے تب اس کا بچہ جننا نزدیک ہوتا ہے۔ایسا ہی مدد الہی بھی قریب ہے۔اور پھر انگریزی فقرہ میں یہ فرمایا کہ دس دن کے بعد جب روپیہ آئے گا تب تم امرتسر بھی جاؤ گے۔تو جیسا اس پیشگوئی میں فرمایا تھا ایسا ہی ہندوؤں یعنی آریوں مذکورہ بالا کے روبرو وقوع میں آیا۔یعنی حسب منشاء پیشگوئی دس دن تک ایک خرمہرہ نہ آیا اور دس دن کے بعد یعنی گیارھویں روز محمد افضل خان صاحب سپرنٹنڈنٹ بندوبست را ولپنڈی نے ایک سو دس روپیہ بھیجے اور بیست روپیہ ایک اور جگہ سے آئے اور پھر برابر روپیہ آنے کا سلسلہ ایسا جاری ہو گیا جس کی امید نہ تھی۔اور اسی روز کہ جب دس دن کے گذرنے کے بعد محمد افضل خان صاحب وغیرہ کا روپیہ آیا امرتسر بھی جانا پڑا۔کیونکہ عدالت خفیفہ امرتسر سے ایک شہادت کے ادا کرنے کے لئے اس عاجز کے نام اسی روز ایک سمن آ گیا۔سو یہ وہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی مفصل حقیقت پر اس جگہ کے چند آریوں کو بخوبی اطلاع ہے۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۵۹ تا ۶۱ ۵ حاشیه در حاشیه نمبر۳) ایک دفعہ نواب علی محمد خان مرحوم رئیس لودھیانہ نے میری طرف خط لکھا کہ میرے بعض امور معاش بند ہو گئے ہیں آپ دعا کریں کہتا وہ کھل جائیں۔جب میں نے دُعا کی تو مجھے الہام ہوا کہ کھل جائیں گے۔میں نے بذریعہ خط اُن کو اطلاع دے دی۔پھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کھل گئے۔اور ان کو بشدت اعتقاد ہو گیا۔پھر ایک دفعہ انہوں نے بعض اپنے پوشیدہ مطالب کے متعلق میری طرف ایک خط روانہ کیا۔اور جس گھڑی انہوں نے خط ڈاک میں ڈالا اس گھڑی مجھے الہام ہوا کہ اس مضمون کا خط اُن کی طرف سے آنے والا ہے۔تب میں نے بلا توقف ان کی طرف یہ خط لکھا کہ اس مضمون کا خط