حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 586 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 586

اس ضرورت کے خیال نے ہم کو یہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دعا کریں۔پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جا کر اس نہر کے کنارہ پر دُعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے۔جب ہم دعا کر چکے تو دُعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا۔جس کا ترجمہ یہ ہے دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔تب ہم خوش ہو کر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رخ کیا تاکہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں۔چنانچہ ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالباً وہ روپیہ اسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔(نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۱۲ ) ایک دفعہ فجر کے وقت الہام ہوا کہ آج حاجی ارباب محمد لشکر خان کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے۔چنانچہ میں نے دو آریہ شرمپت اور ملاوامل ساکنان قادیان کو صبح کے وقت یعنی ڈاک آنے کے وقت سے بہت پہلے یہ پیشگوئی بتلا دی۔مگر ان دونوں آریوں نے بوجہ مخالفت مذہبی کے اس بات پر ضد کی۔کہ ہم تب مانیں گے کہ جب ہم میں سے کوئی ڈاکخانہ میں جاوے اور اتفاقاً ڈاکخانہ کا سب پوسٹ ماسٹر بھی ہندو ہی تھا۔تب میں نے ان کی اس درخواست کو منظور کیا۔اور جب ڈاک آنے کا وقت ہوا تو ان دونوں میں سے ملا وامل آریہ ڈاک لینے کے لئے گیا۔اور ایک خط لایا جس میں لکھا تھا کہ سرور خاں نے مبلغ غلط ( اروپے) بھیجے ہیں۔اب یہ نیا جھگڑا پیش آیا کہ سرور خاں کون ہے۔کیا وہ محمد لشکر خاں کا کوئی قرابتی ہے یا نہیں اور آریوں کا حق تھا کہ اس کا فیصلہ کیا جاوے تا اصل حقیقت معلوم ہو۔تب منشی الہی بخش صاحب اکونٹنٹ مصنف عصائے موسیٰ کی طرف جو اس وقت ہوتی مردان میں تھے اور ابھی مخالف نہیں تھے خط لکھا گیا کہ اس جگہ یہ بحث در پیش ہے اور دریافت طلب یہ امر ہے کہ سرور خان کی محمد لشکر خان سے کچھ قرابت ہے یا نہیں۔چند روز کے بعد منشی الہی بخش صاحب کا ہوتی مردان سے جواب آیا جس میں لکھا تھا که سرور خان ارباب لشکر خان کا بیٹا ہے۔تب دونوں آریہ لاجواب رہ گئے۔اب دیکھو یہ اس قسم کا علم غیب ہے کہ عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ بجز خدا کے کوئی اس پر قادر ہو سکے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۶۰) عرصہ گذرا ہے کہ ایک دفعہ سخت ضرورت روپیہ کی پیش آئی جس ضرورت کا ہمارے اس جگہ کے آریہ ہم نشینوں کو بخوبی علم تھا اور یہ بھی ان کو خوب معلوم تھا کہ بظاہر کوئی ایسی تقریب پیش نہیں ہے جو جائے امید ہو سکے بلکہ اس معاملہ میں ان کو ذاتی طور پر واقفیت تھی جس کی وہ شہادت دے سکتے ہیں۔پس جبکہ