حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 585
اکثر عادت الہی مجھ سے یہی ہے کہ وہ پیش از وقت مجھے بتلا دیتا ہے کہ وہ دنیا کے انعامات میں سے کسی قسم کا انعام مجھ پر کرنا چاہتا ہے اور اکثر وہ مجھے بتلا دیتا ہے کہ کل تو یہ کھائے گا اور یہ پئے گا اور یہ تجھے دیا جائے گا اور ویسا ہی ظہور میں آ جاتا ہے کہ جو وہ مجھے بتلاتا ہے اور ان باتوں کی تصدیق چند ہفتہ میرے پاس رہنے سے ہر ایک شخص کر سکتا ہے۔( تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۵ صفحه ۲۰۰،۱۹۹) ایک دفعہ مجھے قطعی طور پر الہام ہوا کہ آج ایسے روپے آئیں گے آنہ کم نہ زیادہ۔چنانچہ قادیان کے آریوں کو ملزم کرنے کے لئے اس روپیہ کے آنے کی اطلاع دی گئی۔تب تفتیش کے لئے ایک آریہ گیا اور ہنستا ہوا آیا کہ صرف پانچ روپیہ آئے ہیں۔پھر الہام ہوا کہ اکیس روپیہ آئے ہیں۔ایک اور آریہ پھر ڈاکخانہ میں گیا اور وہ خبر لایا کہ دراصل عنہ روپیہ آئے ہیں ڈاکخانہ والے نے غلطی سے پانچ روپے کہے تھے اور اسی موقعہ پر ایک شخص وزیر سنگھ نامی نے علاج کرانے کی غرض سے ایک روپیہ دے دیا۔اس طرح پر پورے اکیس روپے ہو گئے۔یہ ہیں رو پے منشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ نے مجھے بھیجے تھے۔اور جب ایسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور آریہ اس کے گواہ ہو گئے تب میں نے ایک روپیہ کی شیرینی آریوں کو کھلا دی تا ہمیشہ اس پیشگوئی کو یا درکھیں۔( نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۱۲ ) ایک دفعہ یہ وحی الہی میری زبان پر جاری ہوئی کہ عبداللہ خان ڈیرہ اسماعیل خان۔وہ صبح کا وقت تھا اور اتفاقاً چند ہندو اس وقت موجود تھے۔ان میں سے ایک ہندو کا نام بشند اس تھا۔میں نے سب کو اطلاع دی کہ خدا نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ آج اس نام کے ایک شخص کی طرف سے کچھ روپیہ آئے گا۔بشند اس بول اٹھا کہ میں اس بات کا امتحان کروں گا اور میں ڈاکخانہ میں جاؤں گا چونکہ قادیان میں ڈاک اُن دنوں میں دو پہر کے بعد دو بجے آتی تھی۔وہ اسی وقت ڈاکخانہ میں گیا اور جواب لایا کہ ڈاک منشی کی زبانی معلوم ہوا کہ در حقیقت ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک شخص عبداللہ خان نے جوا کسٹرا اسٹنٹ ہے یہ بھیجا ہے۔اور پھر اس نے بہت متعجب اور حیرت زدہ ہو کر پوچھا کہ یہ کیونکر معلوم ہو گیا۔میں نے جواب دیا کہ وہ خدا جس کو تم لوگ نہیں پہچانتے اس نے یہ خبر دی ہے۔روپیه ( نزول اسیح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۳۷، ۵۳۸) ایک دفعہ ہمیں اتفاقات پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور تو کل پر کبھی کبھی ایسی حالت گذرتی ہے۔اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا۔سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو