حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 570
۱۲۵۲ نادان لوگوں نے ہر ایک نبی کو منحوس قدم سمجھا ہے اور اپنی شامت اعمال ان پر تھاپ دی ہے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ نبی عذاب کو نہیں لاتا۔بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لئے نبی کو لاتا ہے اور اس کے قائم ہونے کے لئے ضرورت پیدا کرتا ہے اور سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا ے پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے ؟ اے غافلو! تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔اب ہجری صدی کا بھی چوبیسواں سال ہے۔بغیر قائم ہونے کسی مرسل الہی کے یہ وبال تم پر کیوں آ گیا جو ہر سال تمہارے دوستوں کو تم سے جدا کرتا اور تمہارے پیاروں کو تم سے علیحدہ کر کے داغ جدائی تمہارے دلوں پر لگاتا ہے۔آخر کچھ بات تو ہے کیوں تلاش نہیں کرتے۔اگر خدا نے مجھے یہ تمام خبریں پہلے سے نہیں دیں تو میں جھوٹا ہوں لیکن اگر یہ خبریں پچیس برس سے میری کتابوں میں مندرج ہیں اور متواتر میں قبل از وقت خبر دیتا رہا ہوں تو تمہیں ڈرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ تم خدا کے الزام کے نیچے آ جاؤ۔تم سُن چکے ہو کہ ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کی پیشگوئی ایک برس پہلے میں نے اخباروں میں شائع کی تھی۔اور اس میں صرف یہی لفظ نہیں تھا کہ زلزلہ کا دھکا بلکہ یہ الہام بھی تھا کہ عَفَتِ الدِّيَارُ مَحَلُّهَا وَ مُقَامُهَا یعنی ملک پنجاب کے بعض حصوں کی عمارتیں تباہ اور نا پدید ہو جائیں گی۔سواب مجھے اس بات کے لکھنے کی ضرورت نہیں کہ کس صفائی سے وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔پھر بعد اس کے اسی اپریل کے مہینہ میں یہ دوسری پیشگوئی خدا تعالیٰ کی وحی سے میں نے شائع کی تھی کہ جیسا کہ یہ زلزله ۴ را پریل ۱۹۰۵ ء کا موسم بہار میں آیا ایسا ہی ایک دوسرا زلزلہ موسم بہار میں ہی آئے گا اور اس سے پہلے نہیں آئے گا اور ضروری ہے کہ ۲۵ فروری ۱۹۰۶ ء تک وہ زلزلہ نہ آوے۔سو گیارہ مہینے تک کوئی زلزلہ نہ آیا اور جب ۲۵ فروری ۱۹۰۶ء گزرگئی تب ۲۷ فروری ۱۹۰۶ء کی رات کو عین وسط بہار میں ایک بجے کے وقت ایسا سخت زلزلہ آیا کہ انگریزی اخبارات سول و غیرہ کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ یہ زلزله ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے برابر تھا۔اور رام پور شہر علاقہ شملہ اور بہت سے اور مقامات میں جانوں اور عمارتوں کا نقصان ہوا۔یہ وہی زلزلہ تھا جس کی نسبت گیارہ مہینے پہلے خدا تعالیٰ کی وحی نے یہ خبر دی تھی کہ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی بنی اسرائیل: ۱۶