حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 569 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 569

۱۲۵۱ صرف برگزیدہ رسول کو عطا کیا جاتا ہے غیر کو اس میں حصہ نہیں۔سو ہماری جماعت کو چاہئے جو ٹھوکر نہ کھاویں اور ان غیروں کو جو میرے مقابل پر ہیں اور میری بیعت کرنے والوں میں داخل نہیں ہیں کچھ بھی چیز نہ سمجھیں ورنہ خدا کے غضب کے نیچے آئیں گے۔ہر ایک بیہودہ گو جو پیشگوئی کرتا ہے خدا ایسے لوگوں سے بچے ایمانداروں کو آزماتا ہے کہ کیا وہ غیر کو وہ وقعت اور عزت دیتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول کو دینی چاہئے۔اور دیکھتا ہے کہ کیا وہ اس سچائی پر قائم ہیں یا نہیں جو ان کو دی گئی۔اور یادر ہے کہ جب یہ پانچ زلزلے آ چکیں گے اور جس قدر خدا نے تباہی کا ارادہ کیا ہے وہ پورا ہو چکے گا تب خدا کا رحم پھر جوش مارے گا اور پھر غیر معمولی اور دہشتناک زلزلوں کا ایک مدت تک خاتمہ ہو جائے گا اور طاعون بھی ملک میں سے جاتی رہے گی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ۔یعنی اس جہنم پر جو طاعون اور زلزلوں کا جہنم ہے ایک دن ایسا زمانہ آئے گا کہ اس جہنم میں کوئی فرد بشر بھی نہیں ہو گا یعنی اس ملک میں۔اور جیسا کہ نوح کے وقت میں ہوا کہ ایک خلق کثیر کی موت کے بعد امن کا زمانہ بخشا گیا۔ایسا ہی اس جگہ بھی ہو گا۔اور پھر اس الہام کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ يُغَاتُ النَّاسُ وَ يَعْصِرُونَ۔یعنی پھر لوگوں کی دعائیں سنی جائیں گی اور وقت پر بارشیں ہوں گی اور باغ اور کھیت بہت پھل دیں گے اور خوشی کا زمانہ آ جائے گا اور غیر معمولی آفتیں دُور ہو جائیں گی تا لوگ یہ خیال نہ کریں کہ خدا صرف قہار ہے رحیم نہیں ہے اور تا اس کے میسیج کو منحوس قرار نہ دیں۔یادر ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں موتوں کی کثرت ضروری تھی اور زلزلوں اور طاعون کا آنا ایک مقدر امر تھا۔یہی معنے اس حدیث کے ہیں کہ جو لکھا ہے کہ مسیح موعود کے دم سے لوگ مریں گے اور جہاں تک مسیح کی نظر جائے گی اس کا قاتلانہ دم اثر کرے گا۔پس یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس حدیث میں مسیح موعود کو ایک ڈائن قرار دیا گیا ہے جو نظر کے ساتھ ہر ایک کا کلیجہ نکالے گا بلکہ معنی حدیث کے یہ ہیں کہ اس کے نفحات طیبات یعنی کلمات اس کے جہاں تک زمین پر شائع ہوں گے تو چونکہ لوگ ان کا انکار کریں گے اور تکذیب سے پیش آئیں گے اور گالیاں دیں گے اس لئے وہ انکار موجب عذاب ہو جائے گا۔یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ مسیح موعود کا سخت انکار ہو گا جس کی وجہ سے ملک میں مری پڑے گی اور سخت سخت زلزلے آئیں گے اور امن اُٹھ جائے گا ورنہ یہ غیر معقول بات ہے کہ خواہ نخواہ نیکو کار اور نیک چلن آدمیوں پر طرح طرح کے عذاب کی قیامت آوے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے زمانوں میں بھی