حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 571 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 571

۱۲۵۳ سواسی کے مطابق موسم بہار میں یہ زلزلہ آیا۔اب سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بجز خدا کے کس کی طاقت ہے کہ اس تصریح کے ساتھ پیشگوئی کر سکے۔میرے ہاتھ میں تو زمین کے طبقات نہیں تھے کہ میں گیارہ مہینے تک ان کو تھام رکھتا اور پھر ۲۵ / فروری ۱۹۰۶ ء کے بعد ایک زور کا دھکا دے کر زمین کو ہلا دیتا۔سواے عزیز! جبکہ تم نے یہ دونوں زلزلے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے تو اب تمہیں اس بات کا سمجھنا سہل ہے کہ آئندہ پنج زلزلوں کی خبر بھی کوئی گپ نہیں۔کوئی علم طبقات الارض کا اس تصریح اور تفصیل کو بتلا نہیں سکتا بلکہ وہ خدا جو زمین اور آسمان کا خدا ہے وہ اپنے خاص رسولوں کو یہ اسرار بتلاتا ہے نہ ہر ایک کو تا دنیا کے لوگ کفر اور انکار سے بچ جائیں اور تا وہ ایمان لائیں اور جہنم کے عذاب سے نجات پائیں۔سو دیکھو میں زمین و آسمان کو گواہ کرتا ہوں کہ آج میں نے وہ پیشگوئی جو پانچ زلزلوں کے بارے میں ہے تفریح بیان کر دی ہے تا تم پر حجت ہو اور تا تمہاری گمراہی پر موت نہ ہو۔اے عزیز! خدا سے مت لڑو کہ اس لڑائی میں تم ہرگز فتحیاب نہیں ہو سکتے۔خدا کسی قوم پر ایسے سخت عذاب نازل نہیں کرتا اور نہ کبھی اس نے کئے جب تک اس قوم میں اس کی طرف سے کوئی رسول نہ آیا ہو یعنی جب تک اس کا بھیجا ہوا اُن میں ظاہر نہ ہوا ہو۔سو تم خدا کے قانون قدیم سے فائدہ اٹھاؤ اور تلاش کرو کہ وہ کون ہے جس کے لئے تمہاری آنکھوں کے روبرو آسمان پر رمضان کے مہینہ میں کسوف خسوف ہوا اور زمین پر طاعون پھیلی اور زلزلے آئے اور یہ پیشگوئیاں قبل از وقت کس نے تم کو سنا ئیں اور کس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔اس شخص کو تلاش کرو کہ وہ تم میں موجود ہے اور وہ یہی ہے کہ جو بول رہا ہے۔وَلَا تَايْنَسُوا مِنْ رَّوحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَايُسُ مِنْ زَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ تجلیات الہیہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۹۵ تا ۴۰۴) یادر ہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے۔پس یقیناً سمجھو کہ جیسا کہ پیشگوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے ایسا ہی یورپ میں بھی آئے اور نیز ایشیا کے مختلف مقامات میں آئیں گے اور بعض اُن میں قیامت کا نمونہ ہوں گے۔اور اس قدر موت ہو گی کہ خون کی نہریں چلیں گی۔اس موت سے پرند چرند بھی باہر نہیں ہوں گے۔اور زمین پر اس قد رسخت تباہی آئے گی کہ اس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہوگی۔اور اکثر مقامات زیروز بر ہو جائیں گے کہ گویا ان میں کبھی يوسف: ۸۸