حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 568
۱۲۵۰ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔اس وحی الہی میں ایک دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے چاند قرار دیا اور اپنا نام سورج رکھا۔اس سے یہ مطلب ہے کہ جس طرح چاند کا نور سورج سے فیضیاب اور مستفاد ہوتا ہے۔اسی طرح میرا نور خدا تعالیٰ سے فیضیاب اور مستفاد ہے۔پھر دوسری دفعہ خدا تعالیٰ نے اپنا نام چاند رکھا اور مجھے سورج کر کے پکارا۔اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جلالی روشنی میرے ذریعہ سے ظاہر کرے گا وہ پوشیدہ تھا اب میرے ہاتھ سے ظاہر ہو جائے گا اور اس کی چمک سے دنیا بے خبر تھی مگر اب میرے ذریعہ سے اس کی جلالی چمک دنیا کی ہر ایک طرف پھیل جائے گی۔اور جس طرح تم بجلی کو دیکھتے ہو کہ ایک طرف سے روشن ہو کر ایک دم میں تمام سطح آسمان کا روشن کر دیتی ہے اسی طرح اس زمانہ میں بھی ہو گا۔خدا تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تیرے لئے میں زمین پر اُترا۔اور تیرے لئے میرا نام چپکا اور میں نے تجھے تمام دنیا میں سے چن لیا۔اور فرماتا ہے۔قَالَ رَبُّكَ إِنَّهُ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَا يُرْضِيْكَ۔یعنی تیرا خدا کہتا ہے کہ آسمان سے ایسے زبر دست معجزات اُتریں گے جن سے تو راضی ہو جائے گا۔سوان میں سے اس ملک میں ایک طاعون اور دو سخت زلزلے تو آچکے جن کی پہلے سے میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی مگر اب خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ پانچ زلزلے اور آئیں گے اور دنیا ان کی غیر معمولی چمک کو دیکھے گی۔اور ان پر ثابت کیا جائے گا کہ یہ خدا تعالیٰ کے نشان ہیں جو اس کے بندے مسیح موعود کے لئے ظاہر ہوئے۔افسوس اس زمانہ کے منجم اور جوتشی ان پیشگوئیوں میں میرا ایسا ہی مقابلہ کرتے ہیں جیسا کہ ساحروں نے موسیٰ نبی کا مقابلہ کیا تھا۔اور بعض نادان ملہم جو تاریکی کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں وہ بلغم کی طرح میرے مقابلہ کے لئے حق کو چھوڑتے اور گمراہوں کو مدد دیتے ہیں مگر خدا فرماتا ہے کہ میں سب کو شرمندہ کروں گا اور کسی دوسرے کو یہ اعزاز ہرگز نہیں دوں گا۔ان سب کے لئے اب وقت ہے کہ اپنے نجوم یا الہام سے میرا مقابلہ کریں۔اور اگر کسی حملہ کو اب اٹھا رکھیں تو وہ نامرد ہیں۔اور خدا فرماتا ہے کہ میں ان سب کو شکست دوں گا اور میں اس کا دشمن بن جاؤں گا جو تیرا دشمن ہے اور وہ فرماتا ہے کہ اپنے اسرار کے اظہار کے لئے میں نے تجھے ہی برگزیدہ کیا ہے اور زمین اور آسمان تیرے ساتھ ہے جیسا کہ میرے ساتھ ہے اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میرا عرش۔اسی کے مطابق قرآن شریف میں یہ آیت ہے جو خدا کے برگزیدہ رسولوں کو غیروں سے ممتاز کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ لا یعنی کھلا کھلا غیب الجن : ۲۸،۲۷