حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 567 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 567

۱۲۴۹ طرف سے ہے اور میں اس کا مخالف ہو جاؤں گا جو اس کا مخالف ہے۔سواے سُننے والو! تم سب یا درکھو کہ اگر یہ پیشگوئیاں صرف معمولی طور پر ظہور میں آئیں تو تم سمجھ لو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں لیکن ان پیشگوئیوں نے اپنے پورے ہونے کے وقت دنیا میں ایک تہلکہ برپا کر دیا اور شدت گھبراہٹ سے دیوانہ سا بنا دیا اور اکثر مقامات میں عمارتوں اور جانوں کو نقصان پہنچایا تو تم اس خدا سے ڈرو جس نے میرے لئے یہ سب کچھ کر دکھایا وہ خدا جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے۔وہ فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔یعنی کسی جوتشی یا ملہم یا خواب بین کو اس وقت کی خبر نہیں دی جائے گی بجز اس قدر خبر کے کہ جو اُس نے اپنے مسیح موعود کو دے دی یا آئندہ اس پر کچھ زیادہ کرے۔ان نشانوں کے بعد دنیا میں ایک تبدیلی پیدا ہو گی اور اکثر دل خدا کی طرف کھینچے جائیں گے اور اکثر سعید دلوں پر دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی اور غفلت کے پردے درمیان سے اٹھا دیئے جائیں گے اور حقیقی اسلام کا شربت انہیں پلایا جائے گا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔چو دور خسروی آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند ! دور خسروی سے مراد اس عاجز کا عہد دعوت ہے۔مگر اس جگہ دنیا کی بادشاہت مراد نہیں بلکہ آسمانی بادشاہت مراد ہے جو مجھ کو دی گئی۔خلاصہ معنی اس الہام کا یہ ہے کہ جب دور خسروی یعنی دور مسیحی جو خدا کے نزد یک آسمانی بادشاہت کہلاتی ہے ششم ہزار کے آخر میں شروع ہوا جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں نے پیشگوئی کی تھی تو اس کا یہ اثر ہوا کہ وہ جو صرف ظاہری مسلمان تھے وہ حقیقی مسلمان بننے لگے۔جیسا کہ اب تک چار لاکھ کے قریب بن چکے ہیں اور میرے لئے یہ شکر کی جگہ ہے کہ میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے اپنے معاصی اور گناہوں اور شرک سے توبہ کی اور ایک جماعت ہندوؤں اور انگریزوں کی بھی مشرف باسلام ہوئی۔چنانچہ کل کے دن ہی ایک ہندو میرے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوا جس کا نام محمد اقبال رکھا گیا اور میں کل کے دن چند دفعہ اس الہام الہی کو پڑھ رہاتھا کہ یکدفعہ میری روح میں یہ عبارت پھونکی گئی جو پہلے الہام کے بعد میں ہے:۔مقام او مبیں از راه تحقیر بدورانش رسولاں ناز کردند ۲ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس وحی الہی میں جولکھی جاتی ہے میرے ہاتھ پر دین اسلام کے پھیلانے کی خوشخبری دی جیسا کہ اس نے فرمایا۔يَاقَمَرُ يَاشَمُسُ أَنْتَ مِنْهُ وَاَنَا مِنْكَ یعنی اے چاند اور اے سورج! تو مجھ جب ( ہمارا ) شاہی زمانہ شروع ہوا تو مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان کیا گیا۔اس کے درجہ کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھ۔کہ رسولوں نے اس کے زمانے پر ناز کیا ہے۔