حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 555
۱۲۳۷ ڈرائے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے اور تیرے انکار کی وجہ سے ان پر حجت پوری ہو جائے۔ان لوگوں کو کہہ دے کہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں اور میں وہ ہوں جو سب سے پہلے ایمان لایا۔اس وحی کے نازل ہونے پر مجھے ایک طرف تو خدائے تعالیٰ کی بے نہایت عنایات کا شکر ادا کرنا پڑا کہ ایک میرے جیسے انسان کو جو کوئی بھی لیاقت اپنے اندر نہیں رکھتا اس عظیم الشان خدمت سے سرفراز فرمایا اور دوسری طرف بجر داس وحی الہی کے مجھے یہ فکر دامنگیر ہوا کہ ہر ایک مامور کے لئے سنت الہیہ کے موافق جماعت کا ہونا ضروری ہے تا وہ اس کا ہاتھ بٹائیں اور اس کے مددگار ہوں اور مال کا ہونا ضروری ہے تا دینی ضرورتوں میں جو پیش آتی ہیں خرچ ہو اور سنت اللہ کے موافق اعداء کا ہونا بھی ضروری ہے اور پھر ان پر غلبہ بھی ضروری ہے تا ان کے شر سے محفوظ رہیں اور امر دعوت میں تاثیر بھی ضروری ہے تا سچائی پر دلیل ہو اور تا اِس خدمت مفوضہ میں نا کامی نہ ہو۔ان امور میں جیسا کہ تصور کیا گیا بڑی مشکلات کا سامنا نظر آیا اور بہت خوفناک حالت دکھائی دی۔کیونکہ جبکہ میں نے اپنے تئیں دیکھا تو نہایت درجہ گمنام اور اَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ پایا وجہ یہ کہ نہ تو میں کوئی خاندانی پیرزادہ اور کسی گدی سے تعلق رکھتا تھا تا میرے پر ان لوگوں کا اعتقاد ہو جاتا اور وہ میرے گرد جمع ہو جاتے جو میرے باپ دادے کے مرید تھے اور کام سہل ہو جاتا اور نہ میں کسی مشہور عالم، فاضل کی نسل میں سے تھا تا صد ہا آبائی شاگردوں کا میرے ساتھ تعلق ہوتا اور نہ میں کسی عالم فاضل سے با قاعدہ تعلیم یافتہ اور سند یافتہ تھا تا مجھے اپنے سرمایہ علمی پر ہی بھروسہ ہوتا اور نہ میں کسی جگہ کا بادشاہ یا نواب یا حاکم تھا تا میرے رعب حکومت سے ہزاروں لوگ میرے تابع ہو جاتے بلکہ میں ایک غریب ایک ویرانہ گاؤں کا رہنے والا اور بالکل ان ممتاز لوگوں سے الگ تھا جو مرجع عالم ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔غرض کسی قسم کی ایسی عزت اور شہرت اور ناموری مجھے حاصل نہ تھی جس پر میں نظر رکھ کر اس بات کو اپنے لئے سہل سمجھتا کہ یہ کام تبلیغ دعوت کا مجھ سے ہو سکے گا۔پس طبعا یہ کام مجھے نہایت مشکل اور بظاہر صورت غیر ممکن اور محالات سے معلوم ہوا۔اور علاوہ اس کے اور مشکلات یہ معلوم ہوئے کہ بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہر گز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کر سکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کرسکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور قیامت تک باقی ہے بلکہ صریح معلوم ہوتا تھا کہ ان کی طرف سے وحی کے دعوے پر تکفیر کا انعام ملے گا اور سب علماء متفق ہو کر