حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 556
۱۲۳۸ در پے ایذاء و بیخ کنی ہو جائیں گے کیونکہ اُن کے نزدیک بعد سید نا جناب ختمی پناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی الہی پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بالکل غیر ممکن ہے کہ اب کسی سے مکالمہ و مخاطبہ الہیہ ہو اور اب قیامت تک امت مرحومہ اس قسم کے رحم سے بے نصیب کی گئی ہے کہ خدائے تعالیٰ ان کو اپنا ہم کلام کر کے ان کی معرفت میں ترقی بخشے اور براہ راست اپنی ہستی پر ان کو مطلع فرمائے بلکہ وہ صرف تقلیدی طور پر گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں۔اور شہودی طور پر ایک ذرہ معرفت ان کو حاصل نہیں۔ہاں اس قدر محض لغو طریق پر بعض کا ان میں سے اعتقاد ہے کہ الہام تو نیک بندوں کو ہوتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ الہام رحمانی ہے یا شیطانی ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ ایسا الہام جو شیطان کی طرف بھی منسوب ہو سکتا ہے خدا کے ان انعامات میں شمار نہیں ہو سکتا جو انسان کے ایمان کو مفید ہو سکتے ہیں۔بلکہ مشتبہ ہونا اور شیطانی کلام سے مشابہ ہونا اس کے ساتھ ایک ایسا لعنت کا داغ ہے جو جہنم تک پہنچا سکتا ہے۔اور اگر خدا نے کسی بندہ کے لئے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا قبول کی ہے اور اس کو منعمین میں داخل فرمایا ہے تو ضرور اپنے وعدہ کے مطابق اس روحانی انعام سے حصہ دیا ہے جو یقینی طور پر مکالمہ ومخاطبہ الہیہ ہے۔غرض یہ ہی وہ امر تھا کہ اس اندھی دنیا میں قوم کے لئے ایک جوش اور غضب دکھلانے کا محل تھا۔پس میرے جیسے بیکس تنہا کے لئے ان تمام امور کا جمع ہونا بظاہر نا کامی کی ایک علامت تھی بلکہ ایک سخت نا کامی کا سامنا تھا۔کیونکہ کوئی پہلو بھی درست نہ تھا۔اوّل مال کی ضرورت ہوتی ہے سو اس وحی الہی کے وقت تمام ملکیت ہماری تباہ ہو چکی تھی اور ایک بھی ایسا آدمی ساتھ نہ تھا جو مالی مدد کر سکتا۔دوسرے میں کسی ایسے ممتاز خاندان میں سے نہیں تھا جو کسی پر میرا اثر پڑ سکتا۔ہر ایک طرف سے بال و پر ٹوٹے ہوئے تھے۔پس جس قدر مجھے اس وحی الہی کے بعد سرگردانی ہوئی وہ میرے لئے ایک طبعی امر تھا اور میں اس بات کا محتاج تھا کہ میری زندگی کو قائم رکھنے کے لئے خدائے تعالیٰ عظیم الشان وعدوں سے مجھے تسلی دیتا تا میں غموں کے ہجوم سے ہلاک نہ ہو جاتا۔پس میں کس منہ سے خداوند کریم وقدیم کا شکر کروں کہ اس نے ایسا ہی کیا اور میری بے کسی اور نہایت بے قراری کے وقت میں مجھے مبشرانہ پیشگوئیوں کے ساتھ تھام لیا اور پھر بعد اس کے اپنے تمام وعدوں کو پورا کیا۔اگر وہ خدائے تعالیٰ کی تائید میں اور نصرتیں بغیر سبقت پیشگوئیوں کے یونہی ظہور میں آتیں تو بخت اور اتفاق پر حمل کی جاتیں۔لیکن اب وہ ایسے خارق عادت وہ نشان ہیں کہ ان سے وہی انکار کرے گا جو شیطانی خصلت اپنے اندر رکھتا ہوگا۔اور پھر اس کے بعد خدا نے اپنے ان تمام وعدوں کو پورا کیا جو ایک زمانہ دراز پہلے پیشگوئی کے طور پر