حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 552
۱۲۳۴ اور پھر پر چہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۲ء میں لکھتا ہے کہ ” میرا کام یہ ہے کہ میں مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے لوگوں کو جمع کروں۔اور مسیحیوں کو اس شہر اور دوسرے شہروں میں آباد کروں یہاں تک کہ وہ دن آ جائے کہ مذہب محمدی دنیا سے مٹایا جائے۔اے خدا ہمیں وہ وقت دکھلا۔“ غرض یہ شخص میرے مضمون مباہلہ کے بعد جو یورپ اور امریکہ اور اس ملک میں شائع ہو چکا تھا بلکہ تمام دنیا میں شائع ہو گیا تھا شوخی میں روز بروز بڑھتا گیا۔اور اس طرف مجھے یہ انتظار تھی کہ جو کچھ میں نے اپنی نسبت اور اس کی نسبت خدا تعالیٰ سے فیصلہ چاہا ہے۔ضرور خدا تعالیٰ سچا فیصلہ کرے گا اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ کا ذب اور صادق میں فرق کر کے دکھلا دے گا اور میں ہمیشہ اس بارہ میں خدا تعالیٰ سے دُعا کرتا تھا اور کاذب کی موت چاہتا تھا۔چنانچہ کئی دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تو غالب ہوگا اور دشمن ہلاک کیا جائے گا۔اور پھر ڈوئی کے مرنے سے قریباً پندرہ دن پہلے خدا تعالیٰ نے اپنی کلام کے ذریعہ سے مجھے میری فتح کی اطلاع بخشی اب ظاہر ہے کہ ایسا نشان ( جو فتح عظیم کا موجب ہے ) جو تمام دنیا ایشیا اور امریکہ اور یورپ اور ہندوستان کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو سکتا ہے وہ یہی ڈوئی کے مرنے کا نشان ہے۔کیونکہ اور نشان جو میری پیشگوئیوں سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو پنجاب اور ہندوستان تک ہی محدود تھے اور امریکہ اور یورپ کے کسی شخص کو اُن کے ظہور کی خبر نہ تھی لیکن یہ نشان پنجاب سے بصورت پیشگوئی ظاہر ہوکر امریکہ میں جا کر ایسے شخص کے حق میں پورا ہوا جس کو امریکہ اور یورپ کا فرد فرد جانتا تھا اور اُس کے مرنے کے ساتھ ہی بذریعہ تاروں کے اس ملک کے انگریزی اخباروں کو خبر دی گئی چنانچہ پائیونیر نے ( جوالہ آباد سے نکلتا ہے ) پر چہ ا ار مارچ ۱۹۰۷ء میں اور سول اینڈ ملٹری گزٹ نے ( جو لا ہور سے نکلتا ہے) پر چہ ۱۲ مارچ ۱۹۰۷ ء میں اور انڈین ڈیلی ٹیلی گراف نے (جو لکھنؤ سے نکلتا ہے) پر چہ ۱۲ مارچ ۱۹۰۷ء میں اس خبر کو شائع کیا ہے۔پس اس طرح پر قریباً تمام دنیا میں یہ خبر شائع کی گئی اور خود یہ شخص اپنی دنیوی حیثیت کی رُو سے ایسا تھا کہ عظیم الشان نوابوں اور شاہزادوں کی طرح مانا جاتا تھا۔اور با وجود اس عزت اور شہرت کے جو امریکہ اور یورپ میں اُس کو حاصل تھی خُدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ہوا کہ میرے مباہلہ کا مضمون اُس کے مقابل پر امریکہ کے بڑے بڑے نامی اخباروں نے جو روزانہ ہیں شائع کر دیا اور تمام امریکہ اور یورپ میں مشہور کر دیا اور پھر اس عام اشاعت کے بعد جس ہلاکت اور تباہی کی