حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 551
۱۲۳۳ تقدس مآب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو کا ذب اور مفتری خیال کرتا تھا اور اپنی خباثت سے گندی گالیاں اور مخش کلمات سے آنجناب کو یاد کیا کرتا تھا۔غرض بعض دین متین کی وجہ سے اس کے اندر سخت ناپاک خصلتیں موجود تھیں۔اور جیسا کہ خنزیروں کے آگے موتیوں کا کچھ قدر نہیں ایسا ہی وہ تو حید اسلام کو بہت ہی حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔اور اس کا استیصال چاہتا تھا۔اور حضرت عیسی کو خدا جانتا تھا اور تثلیث کو تمام دنیا میں پھیلانے کے لئے اتنا جوش رکھتا تھا کہ میں نے باوجود اس کے کہ صد ہا کتابیں پادریوں کی دیکھیں مگر ایسا جوش کسی میں نہ پایا۔میں اس کا پرچہ اخبار لیوز آف ہیلنگ لیتا تھا اور اس کی بد زبانی پر ہمیشہ مجھے اطلاع ملتی تھی۔جب اس کی شوخی انتہا تک پہنچی تو میں نے انگریزی میں ایک چٹھی اس کی طرف روانہ کی اور مباہلہ کے لئے اس سے درخواست کی تا خدا تعالیٰ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اُس کو بچے کی زندگی میں ہلاک کرے۔یہ درخواست دو مرتبہ یعنی ۱۹۰۲ء اور پھر ۱۹۰۳ء میں اس کی طرف بھیجی گئی تھی۔اور امریکہ کے چند نامی اخباروں میں بھی شائع کی گئی تھی۔خدا کا فضل ہے کہ باوجودیکہ ایڈیٹر ان اخبارات امریکہ عیسائی تھے اور اسلام کے مخالف تھے تاہم انہوں نے نہایت مد وشدّ سے میرے مضمون مباہلہ کو ایسی کثرت سے شائع کر دیا کہ امریکہ اور یورپ میں اس کی دھوم مچ گئی اور ہندوستان تک اس مباہلہ کی خبر ہوگئی۔اور میرے مباہلہ کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ اسلام سچا ہے اور عیسائی مذہب کا عقیدہ جھوٹا ہے۔اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وہی مسیح ہوں جو آخری زمانہ میں آنے والا تھا اور نبیوں کے نوشتوں میں اس کا وعدہ تھا۔اور نیز میں نے اس میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر ڈوئی اپنے دعویٰ رسول ہونے اور تثلیث کے عقیدہ میں جھوٹا ہے اگر وہ مجھ سے مباہلہ کرے تو میری زندگی میں ہی بہت سی حسرت اور دکھ کے ساتھ مرے گا۔اور اگر مباہلہ بھی نہ کرے تب بھی وہ خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتا۔اس کے جواب میں بد قسمت ڈوئی نے ڈسمبر ۱۹۰۳ ء کے کسی پر چہ میں اور نیز ۲۶ ستمبر ۱۹۰۳ء وغیرہ کے اپنے پر چوں میں اپنی طرف سے یہ چند سطر میں انگریزی میں شائع کیں جن کا ترجمہ ذیل میں ہے:- ”ہندوستان میں ایک بیوقوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ مسیح یسوع کی قبر کشمیر میں ہے۔اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس کا جواب کیوں نہیں دیتا اور کہ تو کیوں اس شخص کا جواب نہیں دیتا۔مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا۔اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں ان کو کچل کر مار ڈالوں گا۔“