حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 553
۱۲۳۵ اُس کی نسبت پیشگوئی میں خبر دی گئی تھی وہ ایسی صفائی سے پوری ہوئی کہ جس سے بڑھ کر اکمل اور اتم طور پر ظہور میں آنا متصور نہیں ہو سکتا۔اُس کی زندگی کے ہر ایک پہلو پر آفت پڑی۔اس کا خائن ہونا ثابت ہوا۔اور وہ شراب کو اپنی تعلیم میں حرام قرار دیتا تھا۔مگر اُس کا شراب خوار ہونا ثابت ہو گیا۔اور وہ اُس اپنے آباد کردہ شہر میون سے بڑی حسرت کے ساتھ نکالا گیا جس کو اُس نے کئی لاکھ روپیہ خرچ کر کے آباد کیا تھا اور نیز سات کروڑ نقد روپیہ سے جو اُس کے قبضہ میں تھا اُس کو جواب دیا گیا اور اُس کی بیوی اور اس کا بیٹا اُس کے دشمن ہو گئے اور اُس کے باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولد الزنا ہے پس اس طرح پر وہ قوم میں ولدالزنا ثابت ہوا اور یہ دعوئی کہ میں بیماروں کو معجزہ سے اچھا کرتا ہوں۔یہ تمام لاف و گزاف اُس کی محض جھوٹی ثابت ہوئی اور ہر ایک ذلّت اُس کو نصیب ہوئی اور آخر کار اس پر فالج رگرا اور ایک تختہ کی طرح چند آدمی اُس کو اُٹھا کر لے جاتے رہے اور پھر بہت غموں کے باعث پاگل ہو گیا اور حواس بجا نہ رہے اور یہ دعویٰ اُس کا کہ میری ابھی بڑی عمر ہے اور میں روز بروز جوان ہوتا جاتا ہوں اور لوگ بڑھے ہوتے جاتے ہیں محض فریب ثابت ہوا۔آخر کار مارچ ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتہ میں ہی بڑی حسرت اور درد اور دُکھ کے ساتھ مر گیا۔اب ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا معجزہ ہوگا چونکہ میرا اصل کام کسر صلیب ہے سو اُس کے مرنے سے ایک بڑا حصہ صلیب کا ٹوٹ گیا۔کیونکہ وہ تمام دنیا سے اول درجہ پر حامي صلیب تھا جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میری دُعا سے تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اور اسلام نابود ہو جائے گا اور خانہ کعبہ ویران ہو جائے گا۔سوخدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر اُس کو ہلاک کیا۔میں جانتا ہوں کہ اس کی موت سے پیشگوئی قتل خنزیر والی بڑی صفائی سے پوری ہو گئی۔کیونکہ ایسے شخص سے زیادہ خطر ناک کون ہو سکتا ہے کہ جس نے جھوٹے طور پر پیغمبری کا دعویٰ کیا اور خنزیر کی طرح جھوٹ کی نجاست کھائی اور جیسا کہ وہ خود لکھتا ہے کہ اُس کے ساتھ ایک لاکھ کے قریب ایسے لوگ ہو گئے تھے جو بڑے مالدار تھے بلکہ بیچ یہ ہے کہ مسلیمہ کذاب اور اسود عنسی کا وجود اس کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہ تھا۔نہ اس کی طرح شہرت اُن کی تھی اور نہ اس کی طرح کروڑ ہا روپیہ کے وہ مالک تھے پس میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ وہی خنزیر تھا جس کے قتل کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ مسیح موعود کے ہاتھ پر مارا جائے گا۔اگر میں اُس کو مباہلہ کے لئے نہ بلا تا اور اگر میں اُس پر بد دعا نہ کرتا اور اُس کی ہلاکت کی پیشگوئی شائع نہ کرتا تو اس کا مرنا اسلام کی حقیت کے لئے کوئی دلیل نہ ٹھہرتا لیکن چونکہ میں نے صد با اخباروں میں پہلے سے شائع کرا دیا تھا کہ وہ میری زندگی میں ہی