حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 464 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 464

۱۱۴۶ کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں اول مسلمانوں کا ہوں۔پھر بعد اس کے اللہ جلشانہ اس نجات کی علامات اپنی کتاب کریم میں لکھتا ہے کیونکہ گو جو کچھ فرمایا گیا وہ بھی ایک حقیقی ناجی کے لئے مابہ الامتیاز ہے۔لیکن چونکہ دنیا کی آنکھیں اس باطنی نجات اور وصول الی اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں اور دنیا پر واصل اور غیر واصل کا امر مشتبہ ہو جاتا ہے اس لئے اس کی نشانیاں بھی بتلا دیں کیونکہ یوں تو دنیا میں کوئی بھی فرقہ نہیں کہ اپنے تئیں غیر ناجی اور جہنمی قرار دیتا ہے کسی سے پوچھ کر دیکھ لیں بلکہ ہر ایک قوم کا آدمی جس کو پوچھو اپنی قوم کو اور اپنے مذہب کے لوگوں کو اوّل درجہ کا نجات یافتہ قرار دے گا۔اس صورت میں فیصلہ کیونکر ہو تو اس فیصلہ کے لئے خدا تعالیٰ نے حقیقی اور کامل ایمانداروں اور حقیقی اور کامل نجات یافتہ لوگوں کے لئے علامتیں مقرر کر دی ہیں اور نشانیاں قرار دے دی ہیں تا دنیا شبہات میں مبتلا نہ رہے۔چنانچہ منجملہ ان نشانیوں کے بعض نشانیوں کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔اَلَا اِنَّ اَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ۔لَهُمُ البُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ الله ذلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ا س ۱۱ ۱۲ سورہ یونس۔یعنی خبر دار ہو تحقیق وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے دوست ہیں ان پر نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے وہ وہی لوگ ہیں جو ایمان لائے یعنی اللہ ، رسول کے تابع ہو گئے اور پھر پرہیز گاری اختیار کی۔ان کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا کی زندگی اور نیز آخرت میں بشریٰ ہے۔یعنی خدا تعالیٰ خواب اور الہام کے ذریعہ سے اور نیز مکاشفات سے ان کو بشارتیں دیتا رہے گا۔خدا تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف نہیں اور یہ بڑی کامیابی ہے جو ان کے لئے مقرر ہو گئی۔یعنی اس کامیابی کے ذریعہ سے ان میں اور غیروں میں فرق ہو جائے گا اور جو بچے نجات یافتہ نہیں ان کے مقابل میں دم نہیں مار سکیں گے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ۔نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُوْنَ۔نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (س ۲۴ رکوع ۱۸) یعنی جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر استقامت اختیار کی۔ان کی یہ نشانی ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں۔یہ کہتے ہوئے کہ تم مت ڈرو اور کچھ غم نہ کرو اور خوشخبری سنو اس بہشت ا یونس : ۶۳ تا ۶۵ حم السجدة: ۳۱ تا ۳۳