حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 463

۱۱۴۵۔جانا چاہیئے کہ اللہ جل شانہ نے نجات کے بارہ میں قرآن کریم میں یہ فرمایا ہے۔وَقَالُوا لَنُ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا اَوْ نَطَرى تِلْكَ اَمَانِيُّهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ۔بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةً أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ے اور کہا انہوں نے کہ ہرگز بہشت میں داخل نہیں ہو گا یعنی نجات نہیں پائے گا مگر وہی شخص جو یہودی ہوگا یا نصرانی ہو گا۔یہ ان کی بے حقیقت آرزوئیں ہیں۔کہو لاؤ برہان اپنی اگر تم سچے ہو یعنی تم دکھلاؤ کہ تمہیں کیا نجات حاصل ہوگئی ہے بلکہ نجات اس کو ملتی ہے جس نے اپنا سارا وجود اللہ کی راہ میں سونپ دیا یعنی اپنی زندگی کو خدا تعالے کی راہ میں وقف کر دیا اور اس کی راہ میں لگا دیا اور وہ بعد وقف کرنے اپنی زندگی کے نیک کاموں میں مشغول ہو گیا اور ہر ایک قسم کے اعمال حسنہ بجالانے لگا۔پس وہی شخص ہے جس کو اس کا اجر اس کے رب کے پاس سے ملے گا اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ ڈر ہے اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔یعنی وہ پورے اور کامل طور پر نجات پا جائیں گے۔اس مقام میں اللہ جل شانہ نے عیسائیوں اور یہودیوں کی نسبت فرما دیا کہ جو وہ اپنی اپنی نجات یابی کا دعویٰ کرتے ہیں۔وہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں اور ان آرزوؤں کی حقیقت جو زندگی کی روح ہے ان میں ہرگز پائی نہیں جاتی بلکہ اصلی اور حقیقی نجات وہ ہے جو اسی دنیا میں اس کی حقیقت نجات یا بندہ کو محسوس ہو جائے اور وہ اس طرح پر ہے کہ نجات یا بندہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تو فیق عطا ہو جائے کہ وہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دے اس طرح پر کہ اس کا مرنا اور جینا اور اس کے تمام اعمال خدا تعالے کے لئے ہو جائیں اور اپنے نفس سے وہ بالکل کھو یا جائے اور اس کی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی ہو جائے اور پھر نہ صرف دل کے عزم تک یہ بات محدود ر ہے بلکہ اس کی تمام جوارح اور اس کے تمام قومی اور اس کی عقل اور اس کا فکر اور اس کی تمام طاقتیں اسی راہ میں لگ جائیں تب اس کو کہا جائے گا کہ وہ حسن ہے یعنی خدمت گاری کا اور فرماں برداری کا حق بجالایا۔جہانتک اس کی بشریت سے ہوسکتا تھا سو ایسا شخص نجات یاب ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں اللہ فرماتا ہے۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَ نُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (س ۸ سوره انعام رکوع ۷ ) کہ نماز میری اور عبادتیں میری اور زندگی میری اور موت میری تمام اس اللہ کے واسطے ہیں جو رب ہے عالموں کا جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی درجہ کے حاصل البقرة: ١١٣،١١٢ الانعام: ۱۶۳ ۱۶۴