حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 465

۱۱۴۷ کی جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا۔ہم تمہارے دوست اور متولی اس دنیا کی زندگی میں ہیں اور نیز آخرت سے۔میں اور تمہارے لئے اس بہشت میں وہ سب کچھ دیا گیا جوتم مانگو۔یہ مہمانی ہے غفور رحیم سے اب دیکھئے اس آیت میں مکالمہ الہیہ اور قبولیت اور خدا تعالیٰ کا متولی اور متکفل ہونا اور اسی دنیا میں بہشتی زندگی کی بناء ڈالنا اور ان کا حامی اور ناصر ہونا بطور نشان کے بیان فرمایا گیا۔اور پھر اس آیت میں جس کا کل ہم ذکر کر چکے ہیں یعنی یہ کہ تُوتِی اُكُلَهَا كُلَّ حِين اس نشانی کی طرف اشارہ ہے کہ کچی نجات کا پانے والا ہمیشہ اچھے پھل لاتا ہے اور آسمانی برکات کے پھل اس کو ہمیشہ ملتے رہتے ہیں اور پھر ایک اور مقام میں فرماتا ہے وَاِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ " ( س۲ ر۷ ) اور جب میرے بندے میرے بارہ میں سوال کریں تو ان کو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں۔یعنی جب وہ لوگ جو اللہ ، رسول پر ایمان لائے ہیں یہ پتہ پوچھنا چاہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے کیا عنایات رکھتا ہے جو ہم سے مخصوص ہوں اور غیروں میں نہ پائی جاویں۔تو انکو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں یعنی تم میں اور تمہارے غیروں میں یہ فرق ہے کہ تم میرے مخصوص اور قریب ہو اور دوسرے مہجور اور دور ہیں۔جب کوئی دعا کرنے والوں میں سے جو تم میں سے دعا کرے، دعا کرتے ہیں تو میں اس کا جواب دیتا ہوں یعنی میں اس کا ہمکلام ہو جاتا ہوں اور اس سے باتیں کرتا ہوں اور اس کی دعا کو پایہ قبولیت میں جگہ دیتا ہوں۔پس چاہیے کہ قبول کریں حکم میرے کو اور ایمان لاویں تا کہ بھلائی پاویں۔ایسا ہی اور کئی مقامات میں اللہ جل شانہ نجات یافتہ لوگوں کے نشان بیان فرماتا ہے اگر وہ تمام لکھے جاویں تو طول ہو جائے گا جیسا کہ اُن میں سے ایک یہ بھی آیت ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمُ فُرْقَانًا (س ٩ سورۃ انفال ) کہ اے ایمان والو اگر تم خدا تعالیٰ سے ڈرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں مابہ الامتیاز رکھ دے گا۔اب میں ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب سے بادب دریافت کرتا ہوں کہ اگر عیسائی مذہب میں طریق نجات کا کوئی لکھا ہے اور وہ طریق آپ کی نظر میں صحیح اور درست ہے اور اس طریق پر چلنے والے نجات پا جاتے ہیں تو ضرور اس نجات یابی کی علامات بھی اس کتاب میں لکھی ہوں گی اور بچے ایماندار جو نجات پا کر اس دنیا کی ظلمت سے مخلصی پا جاتے ہیں۔ان کی نشانیاں ضرور انجیل میں کچھ لکھی ہوں گی۔آپ براہ ابراهیم: ۲۶ البقرة: ۱۸۷ الانفال: ٣٠