حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 443
۱۱۲۵ ایک مشترک کا رروائی جس سے تمام مخالف مذہبوں پر حجت پوری ہوگئی ہے۔میری طرف سے یہ ہے کہ میں نے عام اعلان دیا ہے کہ آسمانی نشان اور برکات اور پر میشر کے شکتی کے کام صرف اسلام میں ہی پائے جاتے ہیں اور دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں کہ ان نشانوں میں اسلام کا مقابلہ کر سکے۔اس بات کے لئے خدا تعالیٰ نے تمام مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرنے کے لئے مجھے پیش کیا ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ ہندوؤں اور عیسائیوں اور سکھوں میں ایک بھی نہیں کہ جو آسمانی نشانوں اور قبولیتوں اور برکتوں میں میرا مقابلہ کر سکے۔یہ بات ظاہر ہے کہ زندہ مذہب وہی مذہب ہے جو آسمانی نشان ساتھ رکھتا ہو اور کامل امتیاز کا نور اس کے سر پر چمکتا ہو۔سو وہ اسلام ہے۔کیا عیسائیوں میں یا سکھوں میں یا ہندوؤں میں کوئی ایسا ہے کہ اس میں میرا مقابلہ کر سکے ؟ سو میری سچائی کے لئے یہ کافی حجت ہے کہ میرے مقابل پر کسی قدم کو قرار نہیں۔اب جس طرح چاہو اپنی تسلی کرلو۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۴۹،۲۴۸) یہ کتاب یعنی رسالہ سرمه چشم آریہ تقریب مباحثہ لالہ مرلی دھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر ہوشیار پور جو عقائد باطلہ وید کی بکلی بیخ کنی کرتی ہے اس دعوئی اور یقین سے لکھی گئی ہے کہ کوئی آریہ اس کتاب کا رڈ نہیں کرسکتا کیونکہ سچ کے مقابل پر جھوٹ کی کچھ پیش نہیں جاتی اور اگر کوئی آریہ صاحب ان تمام وید کے اصولوں اور اعتقادوں کو جو اس کتاب میں رد کئے گئے ہیں سچ سمجھتا ہے اور اب بھی دید اور اس کے ایسے اصولوں کو ایشر کرت ہی خیال کرتا ہے تو اس کو اس ایشر کی قسم ہے کہ اس کتاب کا رڈ لکھ کر دکھلاوے اور پانسور و پیر انعام پاوے۔یہ پانسو روپیہ بعد تصدیق کسی ثالث کے جو کوئی پادری یا بر ہمو صاحب ہوں گے دیا جائے گا اور ہمیں یاں تک منظور ہے کہ اگر منشی جیون داس صاحب سکرٹری آریہ سماج لاہور جو اس گردو نواح کے آریہ صاحبوں کی نسبت سلیم الطبع اور معزز اور شریف آدمی ہیں بعد درد چھپ جانے اور عام طور پر شائع ہو جانے مجمع عام علماء مسلمانوں اور آریوں اور معزز عیسائیوں وغیرہ میں مع اپنے عزیز فرزندوں کے حاضر ہوں اور پھر اُٹھ کر قسم کھا لیں کہ ہاں میرے دل نے یہ یقین کامل قبول کر لیا ہے کہ سب اعتراضات رسالہ سرمہ چشم آریہ جن کو میں نے اوّل سے آخر تک بغور دیکھ لیا ہے اور خوب توجہ کر کے سمجھ لیا ہے اس تحریر سے رد ہو گئے ہیں۔اور اگر میں دلی اطمینان اور پوری سچائی سے یہ بات نہیں کہتا تو اس کا ضرر اور وبال اسی دنیا میں مجھ پر اور میری اولاد پر جو اس وقت حاضر ہے پڑے۔تو بعد ایسی قسم کھا لینے کے صرف منشی صاحب موصوف کی شہادت سے پانسو روپیہ نقد رد کنندہ کو اسی مجمع میں بطور