حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 441
۱۱۲۳ یه شخص در حقیقت مفتری ہے۔اس کے ساتھ مقابلہ کرنے میں کچھ نقصان نہیں ہم ذمہ وار ہیں۔پھر خدا تعالے خود فیصلہ کر دے گا۔میں اس بات پر راضی ہوں کہ جس قدر دنیا کی جائیداد یعنی اراضی وغیرہ بطور وراثت میرے قبضہ میں آئی ہے بحالت دروغگو نکلنے کے وہ سب اس پادری یا پنڈت کو دے دوں گا۔اگر وہ دروغگو نکلا تو بجز اس کے اسلام لانے کے میں اس سے کچھ نہیں مانگتا۔یہ بات میں نے اپنے جی میں جز ما ٹھہرائی ہے اور تہ دل سے بیان کی ہے اور اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس مقابلہ کے لئے طیار ہوں اور اشتہار دینے کے لئے مستعد بلکہ میں نے تو بارہ ہزار اشتہار شائع کر دیا ہے۔بلکہ میں بلاتا بلاتا تھک گیا۔کوئی پنڈت، پادری نیک نیتی سے سامنے نہیں آیا۔میری سچائی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ میں اس مقابلہ کے لئے ہر وقت حاضر ہوں اور اگر کوئی مقابلہ پر کچھ نشان دکھلانے کا دعوی نہ کرے تو ایسا پنڈت یا پادری صرف اخبار کے ذریعے سے یہ شائع کر دے کہ میں صرف یک طرفہ کوئی امر خارق عادت دیکھنے کو طیار ہوں اور اگر امر خارق عادت ظاہر ہو جائے اور میں اس کا مقابلہ نہ کر سکوں تو فی الفور اسلام قبول کروں گا تو یہ تجویز بھی مجھے منظور ہے۔کوئی مسلمانوں میں سے ہمت کرے اور جس شخص کو کافر بیدین کہتے ہیں اور دجال نام رکھتے ہیں بمقابل کسی پادری کے اس کا امتحان کر لیں اور آپ صرف تماشا دیکھیں۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۴۸) قرآن شریف کی زبر دست طاقتوں میں سے ایک یہ طاقت ہے کہ اس کی پیروی کرنے والے کو معجزات اور خوارق دیئے جاتے ہیں اور وہ اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ دنیا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔چنانچہ میں یہی دعویٰ رکھتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ اگر دنیا کے تمام مخالف کیا مشرق کے اور کیا مغرب کے ایک میدان میں جمع ہو جائیں اور نشانوں اور خوارق میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہیں تو میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اور توفیق سے سب پر غالب رہوں گا اور یہ غلبہ اس وجہ سے نہیں ہو گا کہ میری روح میں کچھ زیادہ طاقت ہے بلکہ اس وجہ سے ہوگا کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس کے کلام قرآن شریف کی زبر دست طاقت اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوت اور اعلیٰ مرتبت کا میں ثبوت دوں اور اس نے محض اپنے فضل سے نہ میرے کسی ہنر سے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میں اس کے عظیم الشان نبی اور اس کے قومی الطاقت کلام کی پیروی کرتا ہوں اور اس سے محبت رکھتا ہوں اور وہ خدا کا کلام جس کا نام قرآن شریف ہے جو ربانی طاقتوں کا مظہر ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں