حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 440
۱۱۲۲ تو اس حالت میں بصراحت تمام تحریر کرنا ہو گا جو بوجہ نا کامل یا غیر معقول ہونے کتاب کے اس شق کے پورا کرنے سے مجبور اور معذور ہے اور اگر دلائل مطلوبہ پیش کریں تو اس بات کو یاد رکھنا چاہیئے کہ جو ہم نے شمس دلائل تک پیش کرنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس سے ہماری یہ مراد نہیں ہے کہ اس تمام مجموعہ دلائل کا بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے نصف یا ثلث یا ربع یا خمس پیش کر دیا جائے بلکہ یہ شرط ہر یک صنف کی دلائل سے متعلق ہے اور ہر صنف کے براہین میں سے نصف یا ثلث یا ربع یا شمس پیش کرنا ہوگا۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۴ تا ۳۱ ) آج کی تاریخ تک جو گیارہ ربیع الاول ۱۳۱۱ھ مطابق بائیس ستمبر ۱۸۹۳ء اور نیز مطابق ہشتم اسوج سمت ۱۹۵۰ء اور روز جمعہ ہے۔اس عاجز سے تین ہزار سے کچھ زیادہ ایسے نشان ظاہر ہو چکے ہیں کہ جن کے صد ہا آدمی گواہ بلکہ بعض پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے تو ہزار ہا ہندو اور عیسائی اور دوسرے مخالف مذہب گواہ ہیں۔۔۔اور ایسے بھی سولہ ہزار کے قریب لوگ ہندوستان اور انگلستان اور جرمن اور فرانس اور روس اور روم میں پنڈتوں اور یہودیوں کے فقیہوں اور مجوسیوں کے پیشروؤں اور عیسائیوں کے پادریوں اور قسمیسوں اور بشپوں میں سے موجود ہیں جن کو رجسٹری کرا کر اس مضمون کے خط بھیجے گئے۔کہ درحقیت دنیا میں دین اسلام ہی سچا ہے اور دوسرے تمام دین اصلیت اور حقانیت سے دور جاپڑے ہیں کسی کو مخالفوں میں سے اگر شک ہو تو ہمارے مقابل پر آوے اور ایک سال تک رہ کر دین اسلام کے نشان ہم سے ملاحظہ کرے اور اگر ہم خطا پر نکلیں تو ہم سے بحساب دوسور و پیہ ماہواری ہرجانہ اپنے ایک برس کا لے لے ورنہ ہم اس سے کچھ نہیں مانگتے صرف دین اسلام قبول کرے اور اگر چاہے تو اپنی تسلی کے لئے روپیہ کسی بنک میں جمع کرالے لیکن کسی نے اس طرف رخ نہ کیا امتحان کے طور پر اس زمانہ کے کسی پادری صاحب وغیرہ کو پوچھ کر دیکھو کہ کیا دعوتِ اسلام کے لئے رجسٹری شدہ خط اُن کے پاس نہیں پہنچا نہ صرف اس قدر بلکہ پارلیمنٹ لنڈن اور شہزادہ ولیعہد مکہ معظمہ اور شہزادہ بسمارک کی خدمت میں بھی دعوت اسلام کے اشتہار اور خطوط بھیجے گئے جن کی رسیدیں اب تک موجود ہیں۔۔(شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۹ تا ۳۷۱) مجھے یہ قطعی طور پر بشارت دی گئی ہے کہ اگر کوئی مخالف دین میرے سامنے مقابلہ کے لئے آئے گا تو میں اس پر غالب ہوں گا اور وہ ذلیل ہو گا۔پھر یہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں اور میری نسبت شک رکھتے ہیں کیوں اس زمانہ کے کسی پادری سے میرا مقابلہ نہیں کراتے۔کسی پادری یا پنڈت کو کہہ دیں کہ