حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 404

1+17 جنہوں نے پچاس سال سے زیادہ قرآن اور حدیث پڑھا کر پھر اپنے علم اور عمل کا یہ نمونہ دکھایا کہ بلا تفتیش و تحقیق اس عاجز کے کفر پر فتویٰ لکھ دیا اور ہزار ہا وحشی طبع لوگوں کو بدظن کر کے اُن سے گندی گالیاں دلائیں اور بٹالوی کو ایک مجنون درندہ کی طرح تکفیر اور لعنت کی جھاگ ممہ سے نکالنے کے لئے چھوڑ دیا اور آپ مومن کامل اور شیخ الکل اور شیخ العرب والحجم بن بیٹھے۔لہذا مقابلہ کے لئے سب سے اول انہی کو دعوت دی جاتی ہے۔ہاں ان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے ساتھ بٹالوی کو بھی کہ اب تو خواب بینی کا بھی دعویٰ رکھتا ہے ملا لیں بلکہ ان کو میری طرف سے اختیار ہے کہ وہ مولوی عبدالجبار صاحب خلف عبد صالح مولوی عبداللہ صاحب مرحوم اور نیز مولوی عبد الرحمن لکھو والے کو جو میری نسبت ابدی گمراہ ہونے کا الہام مشتہر کر چکے ہیں اور کفر کا فتویٰ دے چکے ہیں اور نیز مولوی محمد بشیر صاحب بھو پالوی کو جو ان کے متبعین میں سے ہیں اس مقابلہ میں اپنے ساتھ ملالیں اور اگر میاں صاحب موصوف اپنی عادت کے موافق گریز کر جائیں تو یہی حضرات مذکورہ بالا میرے سامنے آویں اور اگر یہ سب گریز اختیار کریں تو پھر مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اس کام کے لئے ہمت کریں کیونکہ مقلدوں کی پارٹی کے تو وہی رکن اول ہیں اور ان کے ساتھ ہر ایک ایسا شخص بھی شامل ہو سکتا ہے کہ جو نامی اور مشاہیر صوفیوں اور پیرزادوں اور سجادہ نشینوں میں سے ہو اور انہی حضرات علماء کی طرح اس عاجز کو کافر اور مفتری اور کذاب اور مکار سمجھتا ہو۔اور اگر یہ سب کے سب مقابلہ سے منہ پھیر لیں اور کچے عذروں اور نامعقول بہانوں سے میری اس دعوت کے قبول کرنے سے منحرف ہو جائیں تو خدائے تعالیٰ کی حجت ان پر تمام ہے۔میں مامور ہوں اور فتح کی مجھے بشارت دی گئی ہے لہذا میں حضرات مذکورہ بالا کو مقابلہ کے لئے بلاتا ہوں۔کوئی ہے جو میرے سامنے آوے؟۔یہ ہر چہار محک امتحان جو میں نے لکھی ہیں یہ ایسی سیدھی اور صاف ہیں کہ جو شخص غور کے ساتھ ان کو زیر نظر لائے گا وہ بلاشبہ اس بات کو قبول کر لے گا کہ متخاصمین کے فیصلہ کے لئے اس سے صاف اور سہل تر اور کوئی رُوحانی طریق نہیں۔اور میں اقرار کرتا ہوں اور اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو گیا تو اپنے ناحق پر ہونے کا خود اقرار شائع کروں گا اور پھر میاں نذیر حسین صاحب اور شیخ بٹالوی کی تکفیر اور مفتری کہنے کی حاجت نہیں رہے گی اور اس صورت میں ہر ایک ذلت اور توہین اور تحقیر کا مستوجب وسزا وار ٹھہروں گا اور اسی جلسہ میں اقرار بھی کروں گا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور میرے تمام دعاوی باطل ہیں اور بخدا میں یقین رکھتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ میرا خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا