حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 405
۱۰۸۷ اور کبھی مجھے ضائع ہونے نہیں دے گا۔آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۲۳ تا ۳۳۰) نشانوں کا سلسلہ تو ابتدا سے جاری ہے اور ہر یک صحبت میں رہنے والا بشرطیکہ صدق اور استقامت سے رہے کچھ نہ کچھ دیکھ سکتا ہے اور آئندہ بھی خدائے تعالیٰ اس سلسلہ کو بے نشان نہیں چھوڑے گا اور نہ اپنی تائید سے دستکش ہوگا بلکہ جیسا کہ اس کے پاک وعدے ہیں وہ ضرور اپنے وقتوں پر نشان تازہ بتازہ دکھاتا رہے گا جب تک کہ وہ اپنی حجت کو پوری کرے اور خبیث اور طیب میں فرق کر کے دکھلاوے۔اُس نے آپ اپنے مکالمہ میں اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا اور میں کبھی امید نہیں کرسکتا کہ وہ حملے بغیر ہونے کے رہیں گے گواُن کا ظہور میرے اختیار میں نہیں۔میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں سچا ہوں۔پیارو! یقیناً سمجھو کہ جب تک آسمان کا خدا کسی کے ساتھ نہ ہوا یسی شجاعت کبھی نہیں دکھا تا کہ ایک دنیا کے مقابل پر استقامت کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور ان باتوں کا دعویٰ کرے جو اُس کے اختیار سے باہر ہیں۔جو شخص قوت اور استقامت کے ساتھ ایک دنیا کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے۔کیا وہ آپ سے کھڑا ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ وہ اس ذات قدیر کی پناہ سے اور ایک غیبی ہاتھ کے سہارے کھڑا ہوتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام زمین و آسمان اور ہر ایک روح اور جسم ہے سو آنکھیں کھولو اور سمجھ لو کہ اس خدا نے مجھ عاجز کو یہ قوت اور استقامت دی ہے جس کے مکالمہ سے مجھے عزت حاصل ہے۔اسی کی طرف سے اور اسی کے کھلے کھلے ارشاد سے مجھے یہ جرات ہوئی کہ میں ان لوگوں کے مقابل پر بڑی دلیری اور دلی استقامت سے کھڑا ہو گیا جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم مقتدا اور شیخ العرب و انجم اور مقرب اللہ ہیں جن میں وہ جماعت بھی موجود ہے جو لہم کہلاتی ہے اور الہی مکالمہ کا دعوی کرتی ہے اور اپنے زعم میں الہامی طور پر مجھے کافر اور جہنمی ٹھہرا چکے ہیں۔سو میں ان سب کے مقابل پر باذنہ تعالیٰ میدان میں آیا ہوں تا خدائے تعالیٰ صادق اور کا ذب میں فرق کر کے دکھاوے اور تا اس کا ہاتھ جھوٹے کو تحت الٹرکی تک پہنچاوے اور تا وہ اس شخص کی نصرت اور تائید کرے جس پر اس کا فضل وکرم ہے۔سو بھائیو دیکھو کہ یہ دعوت جس کی طرف میں میاں نذیرحسین صاحب اور اُن کی جماعت کو بلاتا ہوں یہ در حقیقت مجھ میں اور اُن میں کھلا کھلا فیصلہ کرنے والا طریق ہے سو میں اس راہ پر کھڑا ہوں۔اب اگر ان علماء کی نظر میں ایسا ہی کافر اور دجال اور مفتری اور شیطان کا رہ زدہ ہوں تو میرے مقابل پر انہیں کیوں تامل کرنا چاہئے کیا انہوں نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا کہ عند المقابلہ نصرت الہی مومنوں