حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 382
۱۰۶۴ گویا نیست سے ہست ہو گیا۔ اور نیستی سے ہستی ہونا ایسی دور از فہم بات ہے کہ کوئی عقلمند اس کو نہیں مانے گا مگر میں کہتا ہوں کہ یوں تو فاسد اور ناقص عقل کے مارے ہوئے خدائے تعالیٰ کو بھی نہیں مانتے لیکن جس شخص کی عقل سلیم ہے اس کو تو خدائے تعالیٰ کے ماننے کے ساتھ ہی اس کی وہ تمام صفات بھی ماننے پڑیں گے جو مدار اس کی خدائی اور الوہیت کے ہیں اور جو شخص خدائے تعالیٰ کی اس نہایت ضروری صفت کو مان لے گا کہ وہ قادر مطلق اور بے انتہا طاقتوں کا مالک ہے تو پھر ہرگز اس کی قدرتوں کو اپنی عقل ناقص کے ساتھ مواز نہ نہیں کرے گا اور خدائے غیر محدود کی قادرانہ قوتوں کو کسی حد خاص میں محدود نہیں جانے گا اور نیز جب ایک عقلمند دیکھے گا کہ خدائے تعالی ایسا اپنی ذات میں مظہر العجائب و بلند تر از احاطۂ فکر وقیاس ہے جو بغیر اسباب آنکھوں کے دیکھتا ہے اور بغیر اسباب کانوں کے سُنتا ہے اور بغیر اسباب زبان کے بولتا ہے اور بغیر حاجت معماروں و مزدوروں اور نجاروں و آلات عمارت سازی و فراہمی اینٹوں و پتھروں وغیرہ کے صرف اپنے ارادہ اور حکم کے اشارہ سے ایک طرفۃ العین میں زمین و آسمان بنا سکتا ہے تو بے شک اس بات کا یقین بھی کرے گا کہ وہ قادر خدا نیستی سے ہستی بھی کر سکتا ہے۔ یہی تو خدائی ہے اسی وجہ سے تو وہ سرب شکتی مان اور قادر مطلق اور غیر متناہی قدرتوں کا مالک کہلاتا ہے۔ اگر اس کے کام بھی انسانی کاموں کی طرح محتاج با سباب و مواد و اوقات ضرور یہ ہوں تو پھر وہ کا ہے کا خدا ہو ۔ اور اس کی خدائی کیونکر چل سکے؟ کیا اس کے تمام کام بالاتر از عقل نہیں ہیں؟ کیا اس کی عجائب قدرتیں ایسی نہیں ہیں کہ ان پر نظر ڈال کر عقل ناقص انسانی خیرہ رہ جاتی ہے؟ تو پھر کیسی جہالت ہے کہ جو بات اس کی خدائی کا مدار اور اُس کی الوہیت کی حقیقت ہے اسی پر اعتراض کیا جائے۔ ایسا پر میشر کس بات کا پرمیشر ہے کہ اگر وہ کسی اپنے امر متخیّل کو کہے کہ ہو جا تو کچھ بھی نہ ہو۔ خدا تو اسی ذات عجیب القدرت کا نام ہے کہ جو اس کے ارادہ سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔ جب وہ اپنے کسی امر امر من مقصود کو کہتا ہے ہے کہ کہ ہو ہو جا جا تو تو وہ وہ فی الفور الفور اس اس کی کی قدرت قدرت کاملہ کاملہ سے سے تھے نقش وجود پکڑ جاتا جاتا ہے۔ یہ راز نہایت دقیق معرفت کا نکتہ ہے کہ سب مخلوقات کلمات الہیہ ہیں۔ عیسائیوں نے جب اپنی نادانی سے یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کلمۃ اللہ ہیں یعنی ان کی روح کلمہ الہی ہے جو متشکل بروح ہوگئی ہے تو خدائے تعالیٰ نے اس کا یہ حقانی جواب دیا کہ کوئی بھی ایسی روح نہیں جو کلمۃ اللہ نہ ہو اور مجرد الہی حکم سے نہ نکلی ہو قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّي لے اس کی طرف اشارہ ہے اور یہ بات جو کلمات اللہ بنی اسرائیل : ۸۶