حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 31
۷۱۳ چھڑانے کے لئے اس کو لعنتی بنایا اور لعنت کی لکڑی سے لٹکایا۔یہ اصول ہر ایک پہلو سے فاسد اور قابل شرم ہے۔اگر میزان عدل کے لحاظ سے اس کو جانچا جائے تو صریح یہ بات ظلم کی صورت میں ہے کہ زید کا گناہ بکر پر ڈال دیا جائے۔انسانی کانشنس اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ ایک مجرم کو چھوڑ کر اس مجرم کی سزا غیر مجرم کو دی جائے اور اگر روحانی فلاسفی کے رو سے گناہ کی حقیقت پر غور کی جائے تو اس تحقیق کے رو سے بھی یہ عقیدہ فاسد ٹھہرتا ہے کیونکہ گناہ در حقیقت ایک ایسا زہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پُر جوش محبت اور محبانہ یاد الہی سے محروم اور بے نصیب ہو۔اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھڑ جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے اور اس کی تمام سرسبزی برباد ہو جاتی ہے۔یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل خدا کی محبت سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے۔پس خشکی کی طرح گناہ اُس پر غلبہ کرتا ہے۔سو اس خشکی کا علاج خدا کے قانونِ قدرت میں تین طور سے ہے۔(۱) ایک محبت (۲) استغفار جس کے معنے ہیں دبانے اور ڈھانکنے کی خواہش کیونکہ جب تک مٹی میں درخت کی جڑ جھی رہے تب تک وہ سرسبزی کا اُمیدوار ہوتا ہے۔(۳) تیسرا علاج تو بہ ہے۔یعنی زندگی کا پانی کھینچنے کے لئے تذلل کے ساتھ خدا کی طرف پھرنا اور اُس سے اپنے تئیں نزدیک کرنا اور معصیت کے حجاب سے اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے تئیں باہر نکالنا اور تو بہ صرف زبان سے نہیں ہے بلکہ تو بہ کا کمال اعمال صالحہ کے ساتھ ہے۔تمام نیکیاں تو بہ کی تکمیل کے لئے ہیں۔کیونکہ سب سے مطلب یہ ہے کہ ہم خدا سے نزدیک ہو جائیں۔دُعا بھی تو بہ ہے۔کیونکہ اس سے بھی ہم خدا کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔اس لئے خدا نے انسان کی جان کو پیدا کر کے اس کا نام رُوح رکھا کیونکہ اس کی حقیقی راحت اور آرام خدا کے اقرار اور اس کی محبت اور اس کی اطاعت میں ہے اور اس کا نام نفس رکھا کیونکہ وہ خدا سے اتحاد پیدا کرنے والا ہے۔خدا سے دل لگانا ایسا ہوتا ہے جیسا کہ باغ میں وہ درخت ہوتا ہے جو باغ کی زمین سے خوب پیوستہ ہوتا ہے۔یہی انسان کا جنت ہے۔اور جس طرح درخت زمین کے پانی کو چوستا اور اپنے اندر کھینچتا اور اس سے اپنے زہر یلے بخارات باہر نکالتا ہے اسی طرح انسان کے دل کی حالت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی محبت کا پانی چوس کر زہریلے مواد کے نکالنے پر قوت پاتا ہے اور بڑی آسانی سے ان مواد کو دفع کرتا ہے اور خدا میں ہو کر پاک نشو و نما پاتا جاتا ہے اور بہت پھیلتا اور خوشنما سرسبزی دکھلاتا ہے۔اور اچھے پھل لاتا ہے۔مگر جو خدا میں پیوستہ نہیں وہ نشو ونما دینے والے پانی کو چوس نہیں سکتا۔اس لئے دمبدم خشک ہوتا چلا جاتا ہے۔آخر پتے بھی گر جاتے ہیں