حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 30
۷۱۲ جو پر میشر کے اخلاق کے برخلاف ہے اور اگر رعایا ایسے راجوں اور بادشاہوں کے ماتحت ہو جو پرمیشر کی طرح اپنے قصور واروں کی نسبت معافی کا نام نہیں لیتے تو اس بدقسمت رعیت کا کیا حال ہو گا۔اور پھر تناسخ ثابت کہاں ہے۔جس طرح ہم کسی شخص کی جان نکلتی دیکھتے ہیں کب ہمارے مشاہدہ میں یہ بات آتی ہے کہ وہی جان دوبارہ کسی اور جسم میں پڑ گئی ہے۔اور اس طرح پر یہ سزا بھی بریکار ہے کیونکہ اگر دوبارہ آنے والی روح اس بات سے متنبہ نہیں اور اس کو علم نہیں دیا گیا کہ وہ فلاں گناہ کی پاداش میں کسی ناکارہ جون میں ڈالی گئی تو پھر وہ کیونکر اس گناہ سے دستکش رہے گی۔یاد رہے کہ انسان کی فطرت میں اور بہت سی خوبیوں کے ساتھ یہ عیب بھی ہے کہ اُس سے بوجہ اپنی کمزوری کے گناہ اور قصور صادر ہو جاتا ہے۔اور وہ قادر مطلق جس نے انسانی فطرت کو بنایا ہے اُس نے اس غرض سے گناہ کا مادہ اس میں نہیں رکھا کہ تا ہمیشہ کے عذاب میں اس کو ڈال دے بلکہ اس لئے رکھا ہے کہ جو گناہ بخشنے کا خلق اس میں موجود ہے اس کے ظاہر کرنے کے لئے ایک موقع نکالا جائے۔گناہ بے شک ایک زہر ہے مگر تو بہ اور استغفار کی آگ اس کو تریاق بنا دیتی ہے۔پس یہی گناہ تو بہ اور پشیمانی کے بعد ترقیات کا موجب ہو جاتا ہے اور اس جڑ کو انسان کے اندر سے کھو دیتا ہے کہ وہ کچھ چیز ہے اور عجب اور تکبر اور خود نمائی کی عادتوں کا استیصال کرتا ہے۔اے دوستو! یاد رکھو! کہ صرف اپنے اعمال سے کوئی نجات نہیں پا سکتا محض فضل سے نجات ملتی ہے اور وہ خدا جس پر ہم ایمان لاتے ہیں وہ نہایت رحیم و کریم خدا ہے۔وہ قادر مطلق اور سرب شکتی مان ہے جس میں کسی طرح کی کمزوری اور نقص نہیں۔وہ مبدء ہے تمام ظہورات کا اور سرچشمہ ہے تمام فیضوں کا اور خالق ہے تمام مخلوقات کا اور مالک ہے تمام جود و فضل کا اور جامع ہے تمام اخلاق حمیدہ اور اوصاف کا ملہ کا اور منبع ہے تمام نوروں کا اور جان ہے تمام جانوں کی اور قیوم ہے ہر ایک چیز کا۔سب چیزوں سے نزدیک ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ عین اشیاء ہے اور سب سے بلند تر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اُس میں اور ہم میں کوئی اور چیز بھی حائل ہے۔اُس کی ذات دقیق در دقیق اور نہاں در نہاں ہے مگر پھر بھی سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے۔کچی لذت اور بچی راحت اُسی میں ہے اور یہی نجات کی حقیقی فلاسفی ہے۔( مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۱۴ تا ۴۱۶) واضح ہو کہ عیسائیوں کا یہ اصول کہ خدا نے دنیا سے پیار کر کے دنیا کو نجات دینے کے لئے یہ انتظام کیا کہ نافرمانوں اور کافروں اور بدکاروں کا گناہ اپنے پیارے بیٹے یسوع پر ڈال دیا اور دنیا کو گناہ سے