حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 32

۷۱۴ اور خشک اور بدشکل ٹہنیاں رہ جاتی ہیں۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۲۸ ، ۳۲۹) خدا کا قدیم سے قانون قدرت ہے کہ وہ تو بہ اور استغفار سے گناہ معاف کرتا ہے اور نیک لوگوں کی شفاعت کے طور پر دعا بھی قبول کرتا ہے۔مگر یہ ہم نے خدا کے قانون قدرت میں کبھی نہیں دیکھا کہ زید اپنے سر پر پتھر مارے اور اس سے بکر کی درد سر جاتی رہے۔پھر ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کی خودکشی سے دوسروں کی اندرونی بیماری کا دُور ہونا کس قانون پر مبنی ہے۔اور وہ کون سا فلسفہ ہے جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ مسیح کا خون کسی دوسرے کی اندرونی ناپاکی کو دور کر سکتا ہے بلکہ مشاہدہ اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے۔کیونکہ جب تک مسیح نے خود کشی کا ارادہ نہیں کیا تھا تب تک عیسائیوں میں نیک چلنی اور خدا پرستی کا مادہ تھا مگر صلیب کے بعد تو جیسے ایک بند ٹوٹ کر ہر ایک طرف دریا کا پانی پھیل جاتا ہے یہی عیسائیوں کے نفسانی جوشوں کا حال ہوا۔کچھ شک نہیں کہ اگر یہ خود کشی مسیح سے بالا رادہ ظہور میں آئی تھی تو بہت بے جا کام کیا اگر وہی زندگی وعظ و نصیحت میں صرف کرتا تو مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا۔اس بے جا حرکت سے دوسروں کو کیا فائدہ ہوا۔ہاں اگر مسیح خود کشی کے بعد زندہ ہو کر یہودیوں کے رو برو آسمان پر چڑھ جاتا تو اس سے یہودی ایمان لے آتے۔مگر اب تو یہودیوں اور تمام عقلمندوں کے نزدیک مسیح کا آسمان پر چڑھنا محض ایک فسانہ اور گپ ہے۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۷، ۳۴۸) مجھے خود اندیشہ تھا کہ آخر کوئی جھوٹا مقدمہ میرے پر بنایا جائے گا کیونکہ دشمن جب لا جواب ہو جاتا ہے تو پھر جان اور آبرو پر حملہ کرتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آخر یہ خون کا مقدمہ میرے پر بنایا گیا۔۔۔۔پادری صاحبوں کو سب سے زیادہ بڑھ کر جوش تھا۔کیونکہ میری کارروائی میں ان کے کروڑہا روپیہ کا نقصان ہے اور علاوہ آسمانی نشانوں کے میرے اعتراضات نے بھی اُن کے مذہب کے تارو پود کو تو ڑ دیا ہے۔چنانچہ وہ اعتراض جو ان کے اس عقیدہ پر کیا گیا تھا کہ تمام گنہگاروں کی لعنت مسیح پر آپڑی جس کا ماحصل یہ تھا کہ مسیح کا دل خدا تعالیٰ کی معرفت اور محبت سے بالکل خالی ہو گیا تھا اور درحقیقت وہ خدا کا دشمن ہو گیا تھا۔یہ ایسا اعتراض تھا کہ عقیدہ کفارہ کو باطل کرتا تھا۔کیونکہ جب کہ لعنت اپنے مفہوم کے رو سے مسیح جیسے راستباز انسان پر ہرگز جائز نہیں تو پھر کفارہ کی چھت جس کا شہتیر لعنت ہے کیونکر ٹھہر سکتی ہے۔ایسا ہی وہ اعتراض کہ خدا کا کوئی فعل اس کی قدیم عادت سے مخالف نہیں اور عادت کثرت اور کلیت کو چاہتی ہے۔پس اگر در حقیقت بیٹے کو بھیجنا خدا کی عادت میں داخل ہے تو خدا کے بہت سے بیٹے چاہئیں