حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 252

۹۳۴ واشگاف کہہ دیتا ہے کہ وہی ہے جو کچھ ہے اور کوئی دوسرا خدا نہیں۔غرض اس طرح پر کھینچتے کھنچتے کہیں کا کہیں لے جاتے ہیں۔دیکھو وہ رویا جس میں نظر آیا تھا کہ گویا مردے قبروں میں سے اٹھ کر شہر میں چلے گئے۔اب ظاہری معنوں پر زور دے کر یہ جتلایا گیا کہ حقیقت میں مردے قبروں میں سے باہر نکل آئے تھے اور یروشلم شہر میں آکر اور لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔اس جگہ غور کرو کہ کیسے ایک پر کا کوا بنایا گیا۔پھر وہ ایک کوا نہ رہا بلکہ لاکھوں کو لے اُڑائے گئے۔جس جگہ مبالغہ کا یہ حال ہو اس جگہ حقیقتوں کا کیونکر پتہ لگے۔غور کے لائق ہے کہ ان انجیلوں میں جو خدا کی کتابیں کہلاتی ہیں ایسے ایسے مبالغات بھی لکھے گئے کہ مسیح نے وہ کام کئے کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جاتے تو وہ کتابیں جن میں وہ لکھے جاتے دنیا میں سما نہ سکتیں۔کیا اتنا مبالغہ طریق دیانت وامانت ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اگر مسیح کے کام ایسے ہی غیر محدود اور حد بندی سے باہر تھے تو تین برس کی حد میں کیونکر آ گئے؟ پھر اسی انجیل متی باب ۲۸ آیت ۱۲ و ۱۳ میں ہے۔تب انہوں نے یعنی یہودیوں نے بزرگوں کے ساتھ اکٹھے ہو کر صلاح کی اور اُن پہرہ والوں کو بہت روپیہ دیئے اور کہا کہ تم کہو کہ رات کو جب ہم سوتے تھے اُس کے شاگر د یعنی مسیح کے شاگرد آ کر اُسے چرا کر لے گئے۔دیکھو یہ کیسی کچی اور نامعقول باتیں ہیں اگر اس سے مطلب یہ ہے کہ یہودی اس بات کو پوشیدہ کرنا چاہتے تھے کہ یسوع مُردوں میں سے جی اٹھا ہے اس لئے انہوں نے پہرہ والوں کو رشوت دی تھی کہ تا یہ عظیم الشان معجزہ ان کی قوم میں مشہور نہ ہو تو کیوں یسوع نے جس کا یہ فرض تھا کہ اپنے اس معجزہ کی یہودیوں میں اشاعت کرتا اس کو مخفی رکھا بلکہ دوسروں کو بھی اُس کے ظاہر کرنے سے منع کیا۔اگر یہ کہو کہ اس کو پکڑے جانے کا خوف تھا تو میں کہتا ہوں کہ جب ایک دفعہ خدائے تعالیٰ کی تقدیر اُس پر وارد ہوچکی اور وہ مر کر پھر جلالی جسم کے ساتھ زندہ ہو چکا تو اب اس کو یہودیوں کا کیا خوف تھا ؟ کیونکہ اب یہودی کسی طرح اس پر قدرت نہیں پا سکتے تھے۔اب تو وہ فانی زندگی سے ترقی پا چکا تھا۔افسوس کہ ایک طرف تو اُس کا جلالی جسم سے زندہ ہونا اور حواریوں کو ملنا اور جلیل کی طرف جانا اور پھر آسمان پر اٹھائے جانا بیان کیا گیا ہے اور پھر بات بات میں اُس جلالی جسم کے ساتھ بھی یہودیوں کا خوف ہے اس ملک سے پوشیدہ طور پر بھاگتا ہے کہ تا کوئی یہودی دیکھ نہ لے اور جان بچانے کے لئے ستر کوس کا سفر جلیل کی طرف کرتا ہے۔بار بار منع کرتا ہے کہ یہ واقعہ کسی کے پاس بیان نہ کرو۔کیا یہ جلالی جسم کے لچھن اور علامتیں ہیں ؟ نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی جلالی اور نیا جسم نہ تھا وہی زخم آلودہ جسم تھا جو جان نکلنے سے بچایا گیا اور چونکہ یہودیوں کا پھر بھی