حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 251

۹۳۳ اس کے علاوہ تھا کہ سبت کی رات میں لاشیں صلیب پر نہ رہ جائیں۔پھر یہ بھی ہوا کہ یہودیوں نے مسیح کوششی میں دیکھ کر سمجھ لیا کہ فوت ہو گیا ہے۔اندھیرے اور بھونچال اور گھبراہٹ کا وقت تھا۔گھروں کا بھی ان کو فکر پڑا کہ شائد اس بھونچال اور اندھیرے سے بچوں پر کیا گذرتی ہو گی اور یہ دہشت بھی دلوں پر غالب ہوئی کہ اگر یہ شخص کا ذب اور کافر تھا جیسا کہ ہم نے دل میں سمجھا ہے تو اُس کے اس دُکھ دینے کے وقت ایسے ہولناک آثار کیوں ظاہر ہوئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے لہذا اُن کے دل بے قرار ہو کر اس لائق نہ رہے کہ وہ مسیح کو اچھی طرح دیکھتے کہ آیا مر گیا ہے یا کیا حال ہے ، مگر در حقیقت یہ سب امور مسیح کے بچانے کے لئے خدائی تدبیریں تھیں۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے وَلكِن شُبّه لَهُمُ لا یعنی یہود نے مسیح کو جان سے مارا نہیں ہے لیکن خدا نے ان کو شبہ میں ڈال دیا کہ گویا جان سے مار دیا ہے۔اس سے راستباوں کو خدائے تعالیٰ کے فضل پر بڑی امید بڑھتی ہے کہ جس طرح اپنے بندوں کو چاہے بچالے۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ اصفحہ ۵۲۵۱) ممکن ہے کہ بعض دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہو کہ انجیلوں میں یہ بھی تو بار بار ذکر ہے کہ حضرت مسیح السلام صلیب پر فوت ہو گئے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے۔ایسے اعتراضات کا جواب میں پہلے بطور اختصار دے چکا ہوں اور اب بھی اس قدر بیان کر دینا مناسب خیال کرتا ہوں کہ جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیبی واقعہ کے بعد حواریوں کو ملے اور تکلیل تک سفر کیا اور روٹی کھائی اور کباب کھائے اور اپنے زخم دکھلائے اور ایک رات بمقام املوس حواریوں کے ساتھ رہے اور خفیہ طور پر پلاطوس کے علاقہ سے بھاگے اور نبیوں کی سنت کے موافق اس ملک سے ہجرت کی اور ڈرتے ہوئے سفر کیا تو یہ تمام واقعات اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے اور فانی جسم کے تمام لوازم ان کے ساتھ تھے اور کوئی نئی تبدیلی اُن میں پیدا نہیں ہوئی تھی اور آسمان پر چڑھنے کی کوئی عینی شہادت انجیل سے نہیں ملتی اور اگر ایسی شہادت ہوتی بھی تب بھی لائق اعتبار نہ تھی کیونکہ انجیل نویسوں کی یہ عادت معلوم ہوتی ہے کہ وہ بات کا بتونگڑا بنا لیتے ہیں اور ایک ذرہ سی بات پر حاشیے چڑھاتے چڑھاتے ایک پہاڑ اُس کو کر دیتے ہیں۔مثلا کسی انجیل نویس کے منہ سے نکل گیا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے۔اب دوسرا انجیل نویس اس فکر میں پڑتا ہے کہ اُس کو پورا خدا بنا دے اور تیسر ا تمام زمین آسمان کے اختیار اس کو دیتا ہے اور چوتھا ل النساء : ۱۵۸